Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
23 - 412
خطاؤں کو مٹانے والا ہے ۔''
     بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی دروازے پر کھڑے ہیں وہ اندر آنا چاہتے ہیں۔ کہا: ''اے میری پیاری ماں ! حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی یا تو میری عیادت کرنے آئے ہیں یا پھر زَجْر و تَو بیخ کرنے ۔بہر حال آپ دروازہ کھول دیں۔'' جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اندر تشریف لائے تو دیکھا کہ نوجوان نزع کی سختیوں میں مبتلا ہے ۔ اس پرنا اُمید ی ورَنج واَلم کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: '' اے نوجوان !اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی طلب کر! بے شک وہ رحیم وکریم پرورد گار عَزَّوَجَلَّ تیرے گناہوں کو بخش دے گا۔ '' نوجوان نے کہا : اے ابو سعید! اب وہ میرے گناہوں کو نہیں بخشے گا ۔'' فرمایا :'' اے نوجوان ! کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے بخل ثابت کرنا چاہتے ہو ؟، وہ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ تو بہت زیادہ کریم وجوّاد ہے۔اس کی رحمت سے مایوس کیوں ہوتے ہو۔''

     کہا :'' اے ابو سعید علیہ رحمۃ اللہ المجید !میں نے رحیم وکریم پر وردگارعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی ،تو اس نے مجھے بیماری میں مبتلا کردیا ۔میں نے شِفاطلب کی تو اس نے شفا ء عطا فرمائی۔ میں نے پھر نافرمانی کی تو دوبارہ بیماری میں مبتلا ہوگیا ۔ پھر گناہوں سے معافی طلب کی اور صحتیابی کی دعا مانگی۔ اس پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ نے مجھے شفا ء عطا فرمادی ۔میں اسی طرح گناہ کرتا رہا اوروہ معاف کرتا رہا۔اب پانچویں مرتبہ بیمار ہوا ہوں ، میں نے اس مرتبہ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کی اور صحتیابی کے لئے عرض گزار ہوا تو اپنے گھر کے کونے سے یہ غیبی آواز سنی ۔ :''تیری دعا و مناجات قبول نہیں ہم نے تجھے کئی مرتبہ آزمایا مگر ہر مرتبہ تجھے جھوٹا پایا۔'' 

    نوجوان کی یہ بات سن کر حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا :'' چلو واپس چلتے ہیں۔ '' یہ کہہ کر آپ وہاں سے تشریف لے گئے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جانے کے بعد اس نوجوان نے اپنی والدہ سے کہا : '' اے میری ماں !یہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے شاید یہ میری طر ف سے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ سے ناامید ہوگئے ہیں حالانکہ میرا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ تو  گناہوں کو بخشنے والا اور خطاؤ ں سے در گزر فرمانے والاہے ۔ وہ اپنے بندوں کی تو بہ ضرور قبول فرماتا ہے۔

اے میری پیار ی ماں ! میری موت کا وقت قریب ہے۔ جب سانس اُکھڑنے لگے اور میرا جسم بے جان ہونے لگے ، میری آنکھیں بند ہوجائیں ، جسم پیلا پڑجائے ، آواز بند ہوجائے اور میری روح دا رُالفناء سے دارُالبقاء کی طر ف پرواز کرنے لگے تو میرا گربیان پکڑ کر مجھے گھسیٹنا، میرا چہرہ خاک آلودکردینا۔ پھر میرے پاک پرورد گا رعَزَّوَجَلَّ سے میرے گناہوں کی معافی طلب کرنا ۔بے شک وہ رحمن ورحیم مولیٰ عَزَّوَجَلَّ گناہوں کو بخشنے والا ہے ۔میں اس کی رحمت سے نا امید نہیں۔ اتنا کہہ کر نوجوان خاموش ہوگیا۔ اس کی بوڑھی ماں نے حسبِ وصیت اس کے گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹا ،اس کے چہر ے پر مٹی ڈالی۔ پھر اپنے ہاتھ آسمان
Flag Counter