| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا:'' شکر ہے اس پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ کا جس نے مجھے جیتے جی آپ سے ملاقات کا شرف عطافرمایا۔ میں ان کے قریب بیٹھ کررونے لگا ۔ پھر ہم حدیث کا تکرار کرنے لگے کافی دیر حلقۂ درسِ حدیث جاری رہا ۔ میں نے کہا:''اب جبکہ آپ ہمارے شہر میں آگئے ہیں تو کیا میرے گھر نہیں چلیں گے؟'' فرمایا:'' میرے لیے کوئی مستقل رہائش گاہ نہیں۔ میں مسافر ہوں کسی ایک جگہ نہیں ٹھہر سکتا ۔'' یہ سن کرمیں رونے لگا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی رو دئیے ۔پھر سلام کیا اور مجھے روتا چھوڑ کر اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہوگئے ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)
حکایت نمبر214: مراقبہ کی برکت
حضرتِ سیِّدُنا ابوبَکْر دَقَّاق علیہ رحمۃ اللہ الرزاق سے منقول ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا احمد بن عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سنا کہ''ایک مرتبہ میں صحراء میں جارہاتھاکہ اچانک چرواہوں کے دس شکاری کتوں پر میری نظر پڑی۔ مجھے دیکھ کر وہ میری جانب لپکے ، جب قریب آئے تو میں نے مراقبہ شروع کردیا(یعنی دل میں خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ کاتصورجمایا)۔اچانک ان کے درمیان سے ایک سفیدرنگ کا کتا نکلااور ان کتو ں پر حملہ کر کے مسلسل میرا دفاع کرتا رہا۔جب میں ان کتو ں سے کافی دور ہوگیاتواس سفیدکتے کودیکھنے کے لئے مڑامگروہ کہیں نظر نہ آیا، نہ جانے کہاں غائب ہوگیا ۔میں کتوں سے اس لئے محفوظ رہاکیونکہ میرے ایک استاذ مجھے خوف سے متعلق سکھایا کرتے تھے ،ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا :'' آج میں تمہیں ایک ایسے خوف کے بارے میں بتاؤں گا جس سے تمام امورِ خیر تمہارے لئے جمع ہوجائیں گے۔'' میں نے پوچھا:'' وہ کیا ہے ؟ '' فرمایا : ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کاخوف دل میں بٹھا لینا ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)