Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
234 - 412
نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی 		نہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی

عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی		ہمیں کیا خدا کو ہے الفت کسی کی

     پھر بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں اس طرح عرض گزار ہوا:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرا فلاں پڑوسی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اصحاب کو گالیاں دیتا ہے ۔'' یہ سن کر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پوچھا:'' وہ میرے کس صحابی کو گالی دیتا ہے ؟'' میں نے عرض کی :''امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدنا صدیقِ اکبر اور حضرتِ سیِّدنافاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے ایک چُھری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ''جاؤ! اور اس چُھری سے اسے ذَبح کر ڈالو۔ '' میں نے چُھری لی اور اپنے اس بدبخت پڑوسی کو زمین پر لٹاکر گردن تن سے جدا کردی۔ اس کا ناپاک خون میرے ہاتھ سے لگ گیا میں نے چُھری وہیں پھینکی اور اپنا ہاتھ زمین پر رگڑنے لگا،پھر میری آنکھ کھل گئی ۔میں نے باہر چیخ وپکار کی آواز سنی توگھر والوں سے کہا :''جاؤ! دیکھو! یہ چیخ وپکار کیسی ہے ؟''وہ باہرگئے اور واپسی پر بتایا کہ میرے بد بخت پڑوسی کوکسی نے اچانک ذبح کر ڈالا ہے ۔قاتل کا بالکل بھی پتا نہ چل سکا کہ کون تھا اور کب قتل کیا۔'' صبح جب میں وہاں گیا اور اس کو دیکھا تو وہ اسی انداز میں ذبح کیا گیا تھا جس طر ح میں نے خواب میں اسے ذبح کیا تھا اور اس کی حالت بعینہٖ وہی تھی جو خواب میں میں نے دیکھی ۔ اس طرح وہ بد بخت اپنے انجامِ بَد کو پہنچااور لوگوں کو معلوم بھی نہ ہوا کہ اسے کس نے قتل کیاہے۔''

    (اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں انبیاءِ کرام علٰی نبیناوعلیہم الصلٰوۃوالسلام،صحابۂ کرام اور اولیاءِ عظام علیہم الرضوان کے گستاخوں کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں باادب وباعمل بنائے ۔ہم نبئ کریم، رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں بھی استغاثہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بے ادبوں سے محفوظ رکھیں۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم )

؎ محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے           اور مجھ سے بھی سر ز د نہ کبھی بے ادبی ہو!(آمین)
حکایت نمبر368:                چاندی کا لباس
    حضرتِ سیِّدُناجنید بغدادی، ابو العبَّاس بن مَسْرُوْق، ابوا حمد مَغَازِلِی اورحَرِیرِی علیہم رحمۃ اللہ الجلی فرماتے ہیں :ہم نے حضرتِ سیِّدُناحسن مسُوْحِی رحمۃ  اللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا:'' میں اکثر مسجد کے قریب ایک دیوار کے سائے تلے آرام کیا کرتا۔ دوپہر تک نوافل وغیرہ پڑھتا اور گرمی سے بچا ؤ کے لئے اسی دیوار کو آڑ بنا لیتا،یہی دیوارموسِمِ سرمامیں مجھے سر د ہواؤں سے بچاتی ۔

    ایک دن میں گرمی کی شدت سے بے تاب ہو رہا تھا، مسجد کی صفائی اور نوافل وغیرہ سے فارغ ہو کر میں دیوار کے سائے کی
Flag Counter