| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
ایسا شخص نہ تو دنیا میں کامیاب ہوتا ہے اور نہ ہی آخرت میں۔ اگر بالفرض دنیا میں چند روزہ عیش وعشرت مل بھی جائے تب بھی اسے قلبی سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا ۔ جس نے اپنے نفس کی پیروی کی نفس نے اسے ہمیشہ تباہی وبربادی کے عمیق گڑھے میں ڈال دیا۔ عزت و دولت اورشان وشوکت سب کی سب خاک میں مل گئی ۔ اور یہ تو حقیقت ہے کہ'' جیسی کرنی ویسی بھرنی۔'' آج جو کسی کے ساتھ دھوکا دہی وبد عہدی کریگا تو اس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ انسان چاہے کچھ بھی کرے بالآ خر اُسے موت سے ہمکنار ہونا پڑے گا۔ ؎کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
وہی انسا ن سمجھدار ہے جو اپنے انجام کوپیشِ نظر رکھے۔ اپنے گناہوں پر شرمندگی وندامت کے چند آنسو بہا کر رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ والے کاموں میں لگ جائے ۔اپنے لئے کوئی ایسا وقت متعین کرلے جس میں قبر وآخرت اور حشر کے ہولناک منظر کو یاد کر ے اور اپنے اعمال کی اصلاح کی تدابیر پر غور کرے ۔ چند ہی روز ایسا کرنے سے آخرت کی تیاری اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ ملے گا۔)حکایت نمبر 367: پُراسرار قتل
حضرتِ سیِّدُنا محمد بن علی سَمَّان علیہ رحمۃ اللہ المنّان فرماتے ہیں: ''میں نے رضوان سَمَّان علیہ رحمۃ الرحمن کو یہ کہتے ہوئے سنا: ''میر ا ایک پڑوسی تھا۔ ہم اکٹھا کاروبار کرتے اوردیگر معاملات مِل جُل کر حل کیا کرتے تھے۔کچھ عرصہ بعد پتاچلا کہ میرا وہ بدبخت پڑوسی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں بکتا ہے۔ یہ سنتے ہی میرے دل میں اس کے خلاف شدید نفرت پیدا ہوگئی۔ اب وہ مجھے ایک آنکھ نہ بھاتا اور ہمارے درمیان اکثر جھگڑا رہتا۔ ایک دن میری موجودگی میں جب اس بد زبان نے شیخینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالی دی تو میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے اسے پکڑکر مارنا چاہا تو اس نے بھی جو ابی کاروائی کی ۔ ہم ایک دوسرے سے گُتھَّم گُتھَّا ہوگئے لیکن لوگوں نے بیچ میں آکر ہمیں چھڑا دیا۔اسی غیظ وغضب کی حالت میں، میں گھر آگیا۔جب مجھ پرغنودگی طاری ہوئی تو خواب میں اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ، ُ عَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت ہوئی ۔ میں اپنے پیارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نورانی اورمبارک جلووں میں گم ہوگیا: ؎ کرے چارہ سازی زیارت کسی کی بھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی چمک کر یہ کہتی ہے طَلْعَت کسی کی کہ دیدارِ حق ہے زیارت کسی کی