Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
235 - 412
جانب بڑھا گرمی نے میرا برا حال کر رکھا تھا لیکن میں نے نہ تو اپنے نوافل ترک کئے اور نہ ہی مسجد کی صفائی کرنے میں کوتا ہی کی ۔ جیسے ہی میں سائے میں پہنچا مجھے نیند نے آ لیا ۔میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد کی چھت شق ہوئی اوراس میں سے ایک حسین وجمیل دوشیزہ ظاہر ہوئی۔ اس کے خوبصورت جسم پر باریک ونرم چاندی کی قمیص تھی۔ اس کے خوبصورت لمبے سیاہ بال دو حصوں میں تقسیم ہو کر سینے پر لٹک رہے تھے وہ میرے پاؤں کے قریب آکر بیٹھ گئی۔ میں نے جلد ی سے اپنے پاؤں سمیٹ لئے۔ اس نے اپنے نرم ونازک ہاتھوں سے میرے پاؤں دبانا شروع کردیئے ۔ میں نے اس سے کہا:'' اے لڑکی! تو کس کے لئے ہے ؟'' اس نے اپنی مسحورکُن آواز میں جواب دیا:'' اس کے لئے جو آپ کی طرح نیکیوں پر ہمیشگی اختیارکر ے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ''مسجد کی صفائی کرنا بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا حق مہر ہے۔''(المعجم الکبیر، الحدیث۲۵۲۱، ج۳، ص۱۹) جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے گھر کی صفائی کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے دل کو تمام گندگیوں سے پاک کرکے آئینہ کی مثل صاف و شفاف کردیتاہے پھر اسے ہر جگہ قدرتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے جلوے نظر آتے ہیں۔ سخت گرمیوں میں روزے رکھنا اور رات کو قیام کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہت پسند یدہ عمل ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں فرائض کی پابندی کے ساتھ ساتھ کثرت سے نوافل پڑھنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آ مین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر369:     حضرت بِشْرحافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی اور نوجوان عابد
    حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں: میں نے ملک ِ ''شام ''کی پہاڑیوں میں''اَقْرَعْ''نامی پہاڑ پر ایک نوجوان کودیکھا جس کا جسم سو کھ کرکا نٹا ہوچکا تھا۔ اس نے اُون کا لباس پہن رکھا تھا۔ اگرچہ جسم انتہائی کمزور تھا لیکن چہرہ عبادت کے نور سے جگمگا رہا تھا۔ دِل خودبخود اس کی تعظیم کی طرف مائل ہو رہا تھا۔ میں نے قریب جاکرسلام کیا، اس نے جواب دیا۔ میں نے دل میں کہا: ''میں اس نوجوان سے کہوں گا کہ مجھے وعظ ونصیحت کرے۔'' میں اپنی اس خواہش کا اظہار کرنے ہی والا تھا کہ اس نوجوان نے میری دلی کیفیت جانتے ہو ئے کہا:'' اے نصیحت کے طالب! اپنے نفس کو خود ہی نصیحت کر ۔ اپنا نفس قابو میں رکھ، غیروں کو نصیحت کر نے کی بجائے اپنی اصلاح میں لگ جا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر تنہائیوں میں کر وہ تجھے برائیوں سے محفوظ رکھے گا۔ تجھ پر جُہدِ مسلسل(یعنی لگاتار کوشش کرنا) لازم ہے ۔''
Flag Counter