Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
22 - 412
     اس کی دعا قبول ہوئی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے شفاء عطافرمادی ۔لیکن صحتیابی کے بعد وہ دوبارہ گناہوں میں منہمک ہوگیا۔ اور پہلے سے زیادہ نافرمانی کرنے لگا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دوبارہ اس پر بیماری مسلط فرمادی ۔ وہ پھر گڑ گڑانے لگا اور عرض گزار ہوا : ''اے میرے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ! اس مرتبہ مجھے شفاء عطا فرمادے اب دو بارہ کوئی گناہ نہ کرو ں گا۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے پھر تندرستی عطا فرمادی۔لیکن اس کی آنکھوں پرپھر غفلت کا پردہ پڑگیااور گناہوں کی طرف مائل ہوکر پہلے سے بھی اورزیادہ نافرمان ہوگیا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے پھر بیماری میں مبتلا کردیا۔ اس مرتبہ مرض بہت شدید تھا۔ اس نے بڑی نقاہت بھری غمگین آواز میں خدائے رحمن ورحیم کو پکارا : '' اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! میرے گناہوں کو بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے بیماری سے شفاء عطافرما ۔میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میں پھر کبھی تیری نافرمانی نہ کرو ں گا۔ ''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کرم کیااور پھرصحت عطا فرمادی۔ تندرست ہوتے ہی وہ پھر گناہوں میں مبتلا ہوااور بہت زیادہ نافرمان ہوگیا۔ ایک مرتبہ اچانک اس کی ملاقات حضرتِ سیِّدُناحسن بصری ، ایوب سَخْتِیَانِی،مالک بن دینار اور صالح مُرِّی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہوئی ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اس نوجوان کو گناہوں میں منہمک دیکھا تو فرمایا۔''اے نوجوان! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس طر ح ڈر گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا ،تویہ مت بھول کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ''

    یہ سن کر اس نوجوان نے کہا :'' اے ابو سعید ! مجھ سے دور رہیے ، بے شک میں تومصیبت وآفت میں ہوں اور دنیا کو خوب ظاہر کرنا چاہتا ہیں ۔''حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!بے شک اس نوجوان کی موت قریب ہے ۔ موت کے وقت اسے بہت پریشانی ہوگی ۔ نزع کی سختیاں اسے بہت تنگ کریں گی۔'' اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس گناہ گا ر نوجوان کا بھائی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمتِ بابر کت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہو ا: اے ابو سعید !میں اسی نوجوان کا بھائی ہوں جسے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نصیحت فرمائی تھی ۔ میرے بھائی پر موت کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں ،اس پر نزع کی کیفیت طاری ہے اور بڑی مصیبت میں مبتلا ہے۔ '' 

     حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا:'' آؤ ! چل کر دیکھتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ساتھ کیا معاملہ فرماتا ہے ؟'' چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس کے گھر پہنچے۔ دروازے پردستک دی تواس کی بوڑھی ماں نے پوچھا :'' کون ہے؟ '' فرمایا:'' حسن۔ ''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی آواز سن کر بوڑھی ماں نے کہا :'' اے ابوسعید! آپ جیسے نیک شخص کو کیا چیز میرے بیٹے کے پاس کھینچ لائی حالانکہ یہ تو ہمیشہ گناہوں کامرتکب رہا اور حرام کاموں میں پڑارہا ؟'' فرمایا:'' محترمہ آپ ہمیں اپنے بیٹے کے پا س آنے کی اجازت دیں ، بے شک ہمارا پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ گناہوں کو بخشنے والا اور