| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
پھر اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرمانے لگے:''اے نفس !تجھے کس چیز کی تمنا ہے؟ کیا فلاں کی ؟ تو سن! اسے تین طلاق۔'' کیا تجھے فلاں فلاں لونڈی وغلام اور فلاں باغ سے محبت ہے؟ تو سن ! اپنی یہ سب چیزیں اللہ اوراس کے رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے چھوڑ دے ۔ اے نفس! تجھے کیا ہوگیا کہ تو جنت کو ناپسند کررہاہے ؟ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاتا ہوں کہ تجھے اس میں ضرور جانا پڑے گا ، اب تیری مرضی چاہے خوش ہوکر جایا مجبور ہو کر ،جا! خوش ہو کر جا! بے شک تو وہاں مطمئن رہے گا،تو نہیں ہے مگر پانی کا قطرہ۔ بے شک لوگ جمع ہوگئے اور ان کی چیخ وپکار شدید ہوگئی ۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمن کی صفوں میں گھس گئے ۔بالآخر لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش فرماگئے ۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر364: ایک مجاہد کی دُعائے شہادت
حضرتِ سیِّدُنا حُمَیْد بن ہِلَال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے :حضرتِ سیِّدُنااَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م بہت ہی باحیا اور صالح نوجوان تھے ۔ چلتے وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نگاہیں ہمیشہ اس طرح جھکی رہتیں کہ پاس سے گزرنے والوں کی بھی خبر نہ ہوتی۔ اس وقت گھروں کی دیواریں اتنی بلند نہ ہوتی تھیں۔ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ گھروں کے قریب سے گزررہے تھے کہ کسی عورت نے دوسری عورتوں سے کہا:'' جلدی سے گھرو ں کے اندر چلی جاؤ، ایک نوجوان آرہا ہے۔'' یہ سن کر دوسری عورتوں نے کہا:'' ارے! یہ تو حضرتِ سیِّدُنا اَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م ہیں،ان کی نظریں تو زمین سے اٹھتی ہی نہیں پھر یہ کسی غیر عورت پرنظر کیونکر ڈالیں گے ۔''
ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنااَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م مجاہدینِ اسلام کے ساتھ جہاد کے لئے روانہ ہوئے ،چلتے وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس طرح دعا کی: ''اے میر ے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ !میرا نفس گمان کرتا ہے کہ اسے تیری ملاقات بہت عزیز ہے ۔ اگر یہ اپنے دعوے میں سچا ہے تو اس کی اس خواہش کو پورا فرمادے۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اسے اپنے دعویٰ میں سچا ہونے کی تو فیق عطا فرما۔ اگرچہ یہ اس بات کونا پسند کرے ۔ اے میرے پاک پر وردگار عَزَّوَجَلَّ ! اسے اپنی راہ میں شہادت کی تو فیق عطا فرما۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! شہادت کے بعد میرے گوشت کو پرندوں اور درندوں کی خوراک بنادے ۔''
یہ دعا کرنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لشکر کے ساتھ دشمن کی جانب روانہ ہوگئے لشکر ایک ایسے باغ کے قریب جاکررکا