| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
جس کے چاروں طرف دیوار تھی اور دیوار میں ایک بڑاسا سوراخ تھا ۔ سارا لشکر اس سوراخ کے ذریعے اندر داخل ہوگیا ۔ اتنے میں دشمنوں کا لشکر بھی اس سوراخ کے قریب آکر کھڑا ہوگیا ۔حضرتِ سیِّدُنااَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م اپنے گھوڑے سے اس حالت میں اتر ے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا چہرہ گرد آلود تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دوڑتے ہوئے باغ میں موجود ایک تالاب کے پاس آئے، وضو کیا اور نماز پڑھی۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دشمنوں کی صفوں پر ٹو ٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے ۔ دونوں لشکروں میں گھمسان کی جنگ ہوئی، مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی ۔اس لشکرمیں حضرتِ سیِّدُنا اَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّو م کے بھائی بھی موجود تھے ۔جب لشکرِ اسلام واپسی کے لئے کوچ کرنے لگا توکچھ افراد نے دیوار پر چڑ ھ کر پکارا:'' اے اَسْوَدبن کُلْثُوْم علیہ رحمۃاللہ القیّوم کے بھائیو!یہاں آ کر دیکھو! تمہارے بھائی کے گوشت اور ہڈیوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔'' یہ سن کر ان کے بھائی غمگین ہوگئے اور مغموم لہجے میں کہا:''ہمارے بھائی نے جو دعا کی تھی وہ قبول ہوگئی، ہم میں ایسی دعا کرنے کی ہمت نہیں ۔'' (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر365: خوشیوں کا گھر
اپنے زمانے کے بہت ہی متقی وصالح بزرگ حضرتِ سیِّدُناسَالِم بن زُرْعَہ بن حَمَّاد ابومرضِی علیہ ر حمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ'' ہم جس علاقے میں رہتے تھے وہاں کا پانی تقریباً ساٹھ سال سے نمکین تھا۔ وہاں سے گزرنے والی نہر کا پانی بھی انتہائی کڑوا تھا۔ نہر کے قریب ہی ایک عبادت گزار نوجوان رہتا تھا ۔ اس کے گھر میں نہ تو کوئی پانی کی ٹینکی وغیرہ تھی اور نہ ہی کوئی ایسا بڑا بر تن جس میں پانی رکھا جا سکے۔ ایک مرتبہ سخت گرمی کے دن رمضان کے مہینے میں افطار کے وقت میں نے اس نوجوان کو نہر کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا ۔ میں بھی اس نوجوان کے ساتھ ہولیا۔ اس نے نماز کے لئے وضو کیا پھر اس طر ح التجا کی: '' اے میرے پاک پر وردگار عَزَّوَجَلَّ ! کیا تُو میرے اعمال سے خوش ہے کہ میں تجھ سے سوال کروں؟ اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! گرم اور کھولتا ہوا پانی اس کے لئے ہوگا جس نے تیری نافرمانی کی ہوگی ۔اگرمجھے تیرے غضب کا خوف نہ ہوتا تو میں کبھی بھی افطار نہ کرتا ، بے شک پیاس کی شدت نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ہے۔''
یہ دعا کرنے کے بعد اس نو جوان نے اپنا ہاتھ بڑھا کر نہر سے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ میں حیران تھا کہ یہ اس کڑوے پانی پر کس طر ح صبر کر رہا ہے؟ جب وہ وہاں سے چلا گیا تو میں نے بھی اسی جگہ سے پانی پیا، میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کیونکہ