Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
228 - 412
ہی گم تھا کہ میری آنکھ کھل گی ۔ بس اب میں بہت جلد وہاں پہنچنے والا ہوں ۔

     نوجوان نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ منادی نے پکار کر کہا :'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شہسوارو ! دشمن پر حملہ کرنے کا وقت آگیا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لے کر اسلام کے دشمنوں پر ٹو ٹ پڑو! ۔''یہ سن کر ہم دشمن کے مقابلے میں صفیں بنا کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہوگئے ۔وہ نوجوان بڑی بے جگری سے دشمنوں سے نبرد آزماتھا۔ مجھے اس کی بات یاد تھی، میں کبھی سورج کی طرف دیکھتا کبھی اس کی طرف۔ جیسے ہی سورج غروب ہوا اس کی گردن تن سے جدا کردی گئی ۔وہ راہِ خدا میں اپنا سر قربان کرا چکا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ سور ج پہلے غروب ہوا یا وہ نوجوان پہلے شہید ہو ا۔یقینا اس نے افطاری ''حورِ عَیْنَاء '' کے ساتھ کی ہوگی۔ حضرتِ سیِّدُنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ علیہ نے جب اپنے بیٹے کی زبانی اس نوجوان کی ایمان افروز کہانی سنی تو بے ساختہ دعا گو ہوئے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس مجاہدپر رحمت ہو ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر363:     حضرت عبداللہ بن رَوَاحَہ رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری
    حضرتِ سیِّدُنا حَکَم بن عبدالسَّلام بن نعمان بن بشیر اَنصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے: (جنگِ موتہ) میں جب حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَر بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کر دیئے گئے تو لوگو ں نے بآواز بلند حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن رَوَاحَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت لشکر کی ایک طرف موجود تھے ۔ تین دن سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ بھی نہ کھایا تھا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی جسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھوک کی وجہ سے چو س رہے تھے ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا جَعْفَربن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر سنی تو بے تاب ہو کر ہڈی پھینک دی اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے: ''اے عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !ابھی تک تیرے پاس دنیاوی شئے موجود ہے ۔'' پھر بڑی بے جگری سے دشمن پر ٹو ٹ پڑے تلوار کے وار سے آپ کی انگلی کٹ گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:

     تو نے صرف یہ انگلی کٹوائی ہے اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں۔ اے نفس! شہید ہوجا ورنہ موت کا فیصلہ تجھے قتل کرڈالے گا اور تجھے ضرور موت دی جائے گی۔ تو نے جس چیز کی تمنا کی تجھے وہ چیز دی گئی ۔ اب اگر تو بھی ان دونوں (زید بن حَارِث اور جَعْفَر بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کی طرح شہید ہو گیا تو کامیاب ہے اور اگر تو نے تاخیر کی تو تحقیق بد بختی تیرا مقدر ہوگی ۔''
Flag Counter