رہے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ تم کچھ دیر انتظار کرلوجیسے ہی وہ فارغ ہوں گے میں تمہیں بتا دوں گا اور اگر ابھی حاضر ہونا چا ہو تو تمہاری مرضی۔'' میں انتظار کرنے لگا ،کچھ دیر بعد بتایا گیا: ''امیر المؤمنین لوگو ں کے مسائل سے فارغ ہوچکے ہیں۔'' چنانچہ، میں نے حاضرِ خدمت ہو کر سلام پیش کیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:'' تم کون ہو ؟'' میں نے عرض کی:'' میں رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا قاصد ہوں اور آپ کی طرف پیغام لے کر آیا ہوں ۔'' یہ سنتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میری طرف دیکھا اس وقت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پانی پی رہے تھے۔ فوراً پیالہ ایک طرف رکھا ، مجھے سلامتی کی دعا دی پھر اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا:'' تم کہاں سے آئے ہو ؟ ''میں نے کہا :'' بصرہ کا رہنے والا ہوں ۔'' پوچھا:'' کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو ۔''میں نے کہا: '' فلاں قبیلے سے۔'' فرمایا:'' وہاں اس سال گندم کیسی ہوئی ہے ؟ تمہارے جَوْ کی فصلیں کیسی ہوئی ہیں ؟وہاں کے انگور کیسے ہیں ؟ وہا ں کی کھجوریں کیسی ہیں ؟ گھی کیسا ہے؟ وہاں کے ہتھیار اور بیج کی کیا حالت ہے ؟ ''الغرض! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خرید وفروخت سے متعلقہ تمام چیزوں کے بارے میں سوال کیا۔ جب ان تمام چیزوں کے متعلق پوچھ چکے تو پہلی بات کی طرف آئے اور کہا: ''تیرا بھلا ہو تُو تو بہت عظیم معاملہ لے کر آیا ہے۔'' میں نے عرض کی:'' حضور! مجھے خواب میں جو پیغام ملامیں وہی لے کر حاضر ہو ا ہوں۔''پھر میں نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت سے یہاں پہنچنے تک تمام واقعات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کہہ سنائے ، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے انہیں مجھ پر اعتماد ہوگیا ہے اور ان کے نزدیک میری تمام باتیں ثابت ہوچکی ہیں۔'' فرمایا:'' تم ہمارے پاس ٹھہرو، ہم تمہاری خیر خواہی کریں گے ۔'' میں نے کہا :'' حضور! میں پیغام لے کر حاضر ہوا تھا ، اب میں اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکا ہوں، مجھے اجازت عطا فرمائیے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعا لیٰ علیہ مجھے وہیں چھوڑ کر اندر تشریف لے گئے۔ واپسی پر چالیس دیناروں سے بھر ی ایک تھیلی میری طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا:'' اس وقت میرے پاس ان دیناروں کے علاوہ کو ئی اور چیزنہیں تم بطورِ تحفہ یہ قبول کرلو ۔''
میں نے کہا :'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں کبھی بھی حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا پیغام پہنچا نے کے عوض کوئی چیز نہیں لوں گا ۔ بے حد اصرار کے باوجود میں نے ان دیناروں کو ہاتھ تک نہ لگا یا ۔ میں نے واپسی کی اجازت چاہی اورجب میں الوداع کہہ کراٹھا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے سینے سے لگالیا اور دروازے تک چھوڑ نے آئے اور اَشک بار آنکھوں سے مجھے رخصت کیا۔میں اس ولئ کامل سے ملاقات کے بعد اپنے شہر کی جانب آرہا تھااور دل میں ان کی محبت وتعظیم مزید بڑھ گئی تھی۔ بصرہ پہنچنے کے کچھ ہی دن بعد مجھے یہ جان لیو ا خبر ملی: ''ولئ کامل، امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر ہزاروں آنکھوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دنیاسے پردہ فرما گئے اور دارِ عقبیٰ کی طرف روانہ ہو گئے۔'' اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔آپ کی جدائی پرہر آنکھ اشک بار تھی اورہر زبان گویایوں کہہ رہی تھی:
؎ عرش پر دھومیں مچیں، وہ مومنِ صالح ملا فرش سے ماتم اٹھے، وہ طیب و طاہر گیا