پھر میں مجاہد ین کے ہمراہ جہاد کے لئے روم چلا گیا ۔ وہاں مجھے وہی شخص ملا جو حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر کے دروازے پر بیٹھا ہو اتھااورجس کے ذریعے میں نے اجازت طلب کی تھی۔ میں اسے پہچان نہ سکا لیکن اس نے مجھے پہچان لیا میرے قریب آکر سلام کیا اور کہا:'' اے بندۂ خدا! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کا خواب سچا کردیا ہے ۔ امیر المؤمنین کے بیٹے عبد المَلِک بیمار ہوگئے تھے ۔ میں رات کے وقت ان کی خدمت پر مامور تھا ۔ جب میں ان کے پاس ہوتا تو امیر المؤمنین چلے جاتے اور نماز پڑھتے رہتے ۔ جب وہ اپنے بیٹے کے پاس آجاتے تو میں جاکر سوجاتا۔ میرے جاتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دروازہ بند کر لیتے اور نماز میں مشغول ہوجاتے۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ایک رات میں نے اچانک امیر المؤمنین کے رونے کی آواز سنی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بڑے درد بھرے انداز میں بلند آواز سے رو رہے تھے ۔ میں گھبرا کر دروازے کی طرف لپکا دروازہ اندر سے بند تھا۔ میں نے کہا:'' اے امیر المؤمنین! کیا عبدالمَلِک کو کوئی حادثہ پیش آگیا ہے ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلسل روتے رہے اور میری بات کی طرف بالکل تو جہ نہ دی ۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کچھ افاقہ ہوا تو دروازہ کھول کر فرمایا:'' اے بندۂ خدا! جان لے! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس بصری کا خواب سچا کر دکھا یا۔ابھی ابھی مجھے خواب میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت نصیب ہوئی ۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے وہی ارشاد فرمایا جو اس بصری نے پیغام دیا تھا ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)