Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
224 - 412
بھی بارگاہِ نبوت سے حکم ہوا کہ '' تم اس سال حج کو چلے جانا ۔''میں نے سوچا اگر دوبارہ خواب میں میرے آقا ومولیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لائے تو میں اپنی بے سر و سامانی کے متعلق عرض کروں گا ۔بقولِ شاعر:

؎ پاس مال وزَر نہیں، اُڑنے کو بھی پَر نہیں		کر دو کوئی انتظام، تم پر کروڑوں سلام

     چوتھی رات پھر مدینے کے تا جْوَر ،سلطانِ بحر وبر، محبوبِ ربِّ اکبر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میرے گھر میں جلوہ گَری فرمائی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھ سے یہی ارشاد فرمارہے تھے: '' تم اس سال حج کو چلے جانا۔''میں نے دست بستہ عرض کی: '' میر ے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !میرے پاس تو زادِ راہ بھی نہیں۔'' ارشاد فرمایا :'' کیوں نہیں! تم اپنے مکان کی فلاں جگہ کھودو وہاں تمہارے دادا کی زِرہ موجود ہوگی ۔'' اتنا فرماکرنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے گئے ۔ صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت خوش تھا ۔ نمازِ فجر ادا کرنے کے بعدآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بتائی ہوئی جگہ کھودی تو وہاں واقعی ایک قیمتی زِرہ موجود تھی۔ وہ ایسی نئی تھی گویا اسے کسی نے استعمال ہی نہ کیا ہو۔ میں نے اسے چا ر ہزار دینار میں بیچا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نظرِ عنایت سے اسبابِ حج کا خود ہی انتظام ہوگیا:      ؎جب بلایا آقا انے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود ہی انتظام ہوگئے 

    میں زادِراہ خرید کر حجاج کے قافلے میں شامل ہو گیا۔ اب ہمارا قافلہ سوئے حرم رواں دواں تھا ۔ حرم شریف پہنچ کر مناسکِ حج ادا کئے۔ اب واپسی کا ارادہ تھا میں وہاں کے مناظرپر الوداعی نظر ڈال رہا تھا۔ جدائی کا وقت قریب آتا جارہا تھا ۔ میں نوافل ادا کرنے ''اَبْطَحْ'' کی جانب گیا ۔ وہاں کچھ دیر آرام کے لئے بیٹھاتو اونگھ آگئی ،سر کی آنکھیں بند ہورہی تھیں اور دل کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنا نورانی چہرہ چمکاتے مسکراتے ہوئے تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : '' اے خوش بخت ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیری سعی کو قبول فرمالیا ہے ۔ تو عمر بن عبد العزیز کے پاس جا اور اسے کہنا: ''ہمارے ہاں تمہارے تین نام ہیں:عمر بن عبد العزیز ، امیر المؤمنین ، اَبُو الیَتَامٰی(یعنی یتیموں کا والی)، اے عمر بن عبد العزیز! قوم کے سرداروں اور ٹیکس وصول کرنے والوں پر اپنا ہاتھ سخت رکھنا۔ '' اتنا فرما کر سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم واپس تشریف لے گئے ۔ میں بیدار ہواا ور اپنے رفقاء کے پاس پہنچ کر کہا: '' جاؤ! اللہ تبارک وتعالیٰ کی برکت کے ساتھ اپنے و طن لوٹ جاؤ! میں کسی وجہ سے تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا ۔ ''

    پھرمیں''شام ''جانے والے قافلے میں شامل ہو گیا۔ دمشق پہنچ کر امیر المؤمنین کا گھر معلوم کیا اور زوال سے کچھ دیر قبل وہاں پہنچ گیا۔باہری دروازے کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے کہا : '' امیرالمؤ منین سے میرے لئے حاضر ی کی اجازت طلب کرو ۔''وہ بولا:'' امیر المؤمنین کے پاس جانے سے تمہیں کوئی نہیں روکے گا، لیکن ابھی وہ لوگوں کے مسائل حل فر ما