| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
مقرَّب رسولوں میں سے کوئی اور بھی کرے تب بھی میں اسے اس کی اصلی حالت پر نہیں لوٹاؤں گا۔ اسے میں نے جانور اس لئے بنایاہے کہ'' یہ دین کے ذریعے دنیا کی حقیر دولت طلب کیا کرتا تھا۔(نَعَوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ)
(یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنی ناراضگی سے محفوظ رکھ ، ہمارے گناہوں سے در گزر فرما ۔ سچی توبہ اور اس پر استقامت کی توفیق عطا فرما ۔ صرف اپنی ہی رضا کی خاطر علمِ دین سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کی توفیق عطا فرما ۔ ریا کاری ، حبِ مال، طلب جاہ ، اور دیگربڑے بڑے گناہوں سے ہمیں محفو ظ فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)حکایت نمبر 361: جب بلا یاآقاصلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے خودہی انتظام ہوگئے
حضرتِ سیِّدُناقاسم بن محمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا سُفْیَان ثَوْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے میرا ہاتھ پکڑکر کہا: '' آؤ!ابوہَمَّام نامی شخص کے پاس چلیں جو حضرتِ سیِّدُناعمر بن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللہ القدیر کے متعلق ایک واقعہ بیان کرتا ہے۔'' ہم دونوں اس کے پاس پہنچے تو میں نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیزعلیہ رحمۃ اللہ القدیر کے متعلق دریافت کیا۔ اس نے کہا: ''مجھے فلاں پرہیز گارشخص کہ جس کی سچائی لوگوں میں مشہور ہے، نے کچھ اس طرح بتایا: ''میں مسلسل تین سال سے حج کی دعا کر رہا تھا لیکن میری یہ حسرت دل ہی میں رہی۔''
؎ کر رہے ہیں جانے والے، حج کی اب تَیَّاریاں رہ نہ جاؤں میں کہیں، کردو کرم پھر یا نبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم!
مجھ پہ کیا گزرے گی آقا! اس برس گر رہ گیا میرا حال دل تو ہے، سب تم پہ ظاہر یا نبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم!
چوتھے سال حج کا موسِم قریب تھا۔ میرے دل میں زیارتِ حرمینِ شریفین کی خواہش مچل رہی تھی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہوا میری دعا کی قبولیت کچھ اس انداز میں ہوئی کہ ایک رات جب میں سویا تو میری دل کی آنکھیں کھل گئیں، سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جا گ اٹھی، مجھے رحمتِ عالم ، نورِ مجسّم ، رسولِ محتشم،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت نصیب ہوئی ۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: '' تم اس سال حج کے لئے چلے جانا۔ ''
میری آنکھ کھُلی تو دل خوشی سے جھوم رہا تھا۔ بارگاہِ نبوت سے حج کی اجازت مل چکی تھی۔ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی میٹھی میٹھی آواز اب تک کا نوں میں رَس گھول رہی تھی، میں بہت شاداں وفرحاں تھا ۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ میرے پاس زادِ راہ تو ہے نہیں، میں تو بالکل بے سرو سامان ہوں ۔ بس اس خیال کے آتے ہی میں غمگین ہوگیا ۔ دوسری رات پھر خواب میں حضور نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا دیدار ہوا لیکن میں اپنی بے سرو سامانی کا ذکر نہ کر سکا۔ اسی طرح تیسری رات