محتاج ہوں گے ۔بے شک آخرت کی محتاجی ومفلسی کو دنیا کا غنا نہیں روک سکتا ۔اگر آخرت میں اعمالِ صالحہ کم ہوئے تو مصیبت کا اِزالہ بہت مشکل ہے ۔ میں تیرا مسلمان بھائی ہوں ۔ جب تم میرے پاس پہنچو ں گے تو میں مرنے والا ہوں گا پس تم میرے پا س آؤ ، میری تجہیز وتکفین کرو اور نماز جنازہ پڑھ کر مجھے میری قبر میں اُتار دو ۔میں تمہیں اور تمام مسلمانوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حفاظت میں چھوڑتا ہوں۔ دو جہاں کے تاجور ، حبیب ِ ربِّ اکبر، محبوبِ داوَرعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں میرا سلام ہو ۔ سب کو میر ی طرف سے سلام اورتم سب پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو۔ والسَّلام:'' آپ کا بھائی''
خط پڑھ کر حضرتِ سیِّدُنا عَبَّاد بن عَبَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد نے مجھ سے فرمایا:'' جس نے یہ خط بھجوایا ہے، وہ کہا ں ہے؟ ''میں نے کہا :'' مقامِ ''اَ بْطَح'' کے قریب ۔''فرمایا :'' کیاوہ بیمار ہے؟'' میں نے کہا:'' میں توبالکل تندرست چھوڑ کر آیا ہوں ۔'' یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کھڑے ہوگئے۔ آپ کے ساتھ تمام حاضرین بھی کھڑے ہوئے اور ہم سب مقامِ''اَ بْطَح''میں اس بزرگ کے پاس پہنچے ، دیکھا تو ان کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ ان کی میت ایک چادر میں لپٹی قبلہ رخ رکھی ہوئی تھی ۔ حضرتِ سیِّدُنا عَبَّاد بن عَبَّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد نے مجھ سے فرمایا :'' کیا یہ تمہارا رفیق ہے ؟'' میں نے کہا:''جی ہاں۔'' فرمایا:'' کیا تم اسے تندرست چھوڑ کر گئے تھے ؟'' میں نے کہا :'' جی ہاں ''۔یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بزرگ کی میت کے سرہانے کھڑے ہو کر کافی دیر روتے رہے پھر نمازِجنازہ پڑھا کر دفن کردیا۔ لوگو ں نے دور دور سے آکر جنازہ میں شرکت کی ۔جب یو مِ نحر ( یعنی قربانی کا دن) آیا تو میں نے کہا:'' واللہ! اپنے رفیق کے حکم کے مطابق ان کا دیا ہوا دوسرا خط میں آج ضرور پڑھوں گا۔'' چنانچہ، میں نے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: