Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
213 - 412
کر لو۔سنو! سمجھ دار لوگ وہ ہیں جو اُس وقت دنیا کے عیب اور دھوکے کو پہچان لیتے ہیں جب وہ اپنے چاہنے والوں کو ہرطرف سے گھیر لیتی ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تم پررحمت ،سلامتی اوربرکت ہو۔''( آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

    پھر دونوں جدا ہوگئے ۔ میں نے اپنے رفیق بزرگ سے پوچھا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! یہ شخص کون تھا؟'' میں نے آ ج تک اس سے بہتر کلام کرنے والا کسی کو نہیں پایا ؟'' فرمایا:'' یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں میں سے ایک خاص بندہ تھا۔'' پھر ہم ''عُسْفَانَ'' سے مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا پہنچے ،مقامِ''اَ بْطَح''کے قریب وہ سواری سے اُترے اور کہا : ''تم یہیں ٹھہرنا میں بیت ُ اللہ شریف پر ایک محبت بھری نظر ڈال کر اِنْ شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ جلد ہی واپس آجاؤں گا۔'' اتنا کہہ کر وہ چلے گئے میں وہیں کھڑا رہا۔کچھ دیربعد میرے پاس ایک شخص آیا اور کہا: '' کیا یہ گدھا فروخت کر و گے؟'' میں نے کہا : '' ہاں! یہ تیس دینار کا ہے۔'' اس نے کہا :'' مجھے منظور ہے۔'' میں نے کہا :'' یہ گدھا میرا نہیں، میرے رفیق کا ہے، وہ مسجد حرام کی طرف گئے ہیں ابھی آتے ہی ہوں گے ۔'' ابھی میں یہ بات کرہی رہا تھا کہ وہ آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ میں ان کی طرف بڑھا اور کہا:'' میں نے یہ گدھا تیس (30)دینار میں فروخت کردیا ہے۔'' فرمایا: ''اگر تم چاہتے تو اس سے زیادہ میں بھی بیچ سکتے تھے ۔ لیکن اب بیچ دیاتو کوئی بات نہیں، اپنا قول پورا کرو۔''

     چنانچہ، میں نے تیس دینار لے کر گدھا اس شخص کے حوالے کردیا۔ پھربزرگ سے پوچھا:'' ان دیناروں کا کیا کروں؟'' فرمایا:'' یہ تمہارے لئے ہیں،انہیں اپنے استعمال میں لاؤ۔'' میں نے کہا:'' مجھے ان کی حاجت نہیں ۔'' فرمایا:'' اچھاتو پھر انہیں میرے تھیلے میں ڈال دو۔'' میں نے وہ دینار تھیلے میں ڈال دیئے ۔ مقامِ ''اَ بْطَح'' کے قریب ایک جگہ قیام کیا تو فرمایا: ''قلم، دوات اور ورق لے کر آؤ ۔'' میں نے یہ اشیاء حاضرِ خدمت کیں توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دو خط لکھے ، پھر ایک خط مجھے دیتے ہوئے کہا: ''جاؤ! فلاں جگہ حضرتِ سیِّدُناعَبَّاد بن عَبَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد ہوں گے، یہ خط دے کرانہیں اور وہاں موجود تمام لوگوں کو میرا سلام کہنا۔ پھر دوسرا خط دیتے ہوئے فرمایا: ''اس کو اپنے پاس رکھنا اور یومِ نحر (یعنی قربانی کے دن )پڑھنا ۔ جاؤ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا حامی وناصرہو ۔''

    میں خط لے کر حضرتِ سیِّدُناعَبَّاد بن عَبَّادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ لوگو ں کو حدیث سنا رہے ہیں ، بہت سے مسلمان ان کے اردگرد بیٹھے حدیث ِ نبوی سن رہے تھے۔ میں نے سلام کیا اور کہا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے۔ آپ کے ایک بھائی نے یہ خط بھیجا ہے۔'' انہوں نے خط پڑھاتو اس میں کچھ اس طر ح کا مضمون لکھا تھا:
'' بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم''
    اَمَّابَعْد! اے عَبَّاد! میں تجھے اس دن کی مفلسی ومحتاجی سے ڈراتا ہوں جس دن لوگ (جمع شدہ نیکیوں کے) ذخیرے کے
Flag Counter