Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
215 - 412
کرتے تھے ۔ یہ سامان محفوظ مقام پر رکھ کر مناسک ِ حج ادا کئے اور پختہ ارادہ کرلیا کہ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں بیتُ المقدس ضرور جاؤں گا۔ ہوسکتا ہے میری ملاقات ان کے وارث سے ہوجائے ۔ ''

    چنانچہ، بیتُ المقدس پہنچ کر میں مسجد میں داخل ہوا تو بہت سے فقراء ومساکین کا ہجوم دیکھا ۔ میں ان لوگو ں کے درمیان گھومتا رہا سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس سے پوچھوں۔ اچانک ایک شخص نے مجھے میرانام لے کرپکارا،میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بالکل میرے رفیق کی طر ح تھا۔ اس نے مجھ سے کہا:'' فلاں کی میراث مجھے دے دو۔'' میں عصا ،پیالہ اور تھیلا اس شخص کو دے کر واپس آنے لگا ۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ابھی میں مسجد سے باہر بھی نہ نکلا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا میں نے اپنے بزرگ رفیق کے عجیب وغریب معاملات دیکھے۔ پھر میں مکۂ مکرمہ سے بیتُ المقدس آیا یہاں بھی بہت عجیب بات دیکھی کہ ایک انجان شخص نے میرا نام لے کر پکارا،یہ سارے معاملات بہت حیران کُن ہیں اور میرا یہ حال ہے کہ میں نے نہ تو ان دونوں سے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور نہ ہی لوگوں سے ان کے متعلق معلومات کیں کہ یہ کون ہستیاں ہیں۔ مجھے چاہے کہ جس کی طرف مجھے بھیجا گیا ہے تادمِ آخر اس کے ساتھ رہوں۔ بس اسی خیال کے تحت میں واپس پلٹا او راس شخص کو ڈھونڈنے لگا لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا ہر جگہ تلاش کیا مگر ناکامی ہوئی لوگو ں سے پوچھا تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ میں کافی دن بیتُ المقدس ٹھہرا رہا لیکن مجھے کوئی ایسا نہ ملا جو اس شخص کے متعلق میری رہنمائی کرتا ۔بالآخر اس کے دیدار کی حسرت دل ہی میں لئے، مَیں واپس عراق آگیا ۔''

؎ جس کی خاطر دل تھا بے چین                   ہر جگہ ڈھونڈا مگر کہیں نہ ملا

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر:354             جرأ ت مند حاجی
    حضرتِ سیِّدُنا علی بن زید علیہ رحمۃ اللہ الاحد سے منقول ہے، حضرت سیِّدُنا طاء ُوس علیہ رحمۃاللہ القُدُّوس نے فرمایا :''ایک مرتبہ موسِمِ حج میں حَجَّاج بن یوسف مکۂ مکرمہ (زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا) آیاتومجھے اپنے پاس بلوایا۔ میں گیا تو مجھے اپنے برابر بٹھایا اور ٹیک لگانے کے لئے تکیہ دیا ، ہم ابھی بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ کسی طواف کرنے والے کی صدا فضا میں بلند ہوئی:
    ''لَبَّیْک اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْک لَاشَرِیْکَ لَک
ترجمہ : میں حاضر ہوں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں حاضر ہوں (ہاں) میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام خوبیاں اور نعمتیں تیرے لئے ہیں اور تیرا ہی مُلک ہے، (میرے مولیٰ) تیرا کوئی شریک نہیں۔''
Flag Counter