حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن ابونُوح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت عبادت گزار تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کابیان ہے :ایک مرتبہ مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًاجاتے ہوئے مجھے ایک بزرگ نظر آئے ، ان کی بارُعب وباوقار شخصیت نے مجھے تعجب میں ڈال دیا۔ میں نے ان سے کہا:'' میں آپ کی رفاقت کا طالب ہو۔'' فرمایا:'' جیسے تمہاری مرضی ، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چنانچہ، میں اُن کے ساتھ ہو لیا، وہ سارا سارا دن چلتے اور جہاں چاہتے ٹھہرجاتے۔بہت زیادہ گرمی کے باوجود، دن کو روزہ رکھتے، افطار کے وقت اپنے تھیلے سے کوئی چیز نکال کر اپنے منہ میں ڈال لیتے۔ روزانہ افطار کے وقت نہ جانے کون سی چیز تھیلے سے نکال کر صرف دو تین مرتبہ اپنے منہ میں ڈالتے پھر مجھے بلاتے اور کہتے:'' آؤ! تم بھی اس میں سے کچھ کھالو ۔'' میں اپنے دل میں کہتا :'' اے بندۂ خدا! یہ تو تمہیں بھی کفایت نہ کریگا پھر بھی تمہارے ایثار کا یہ عالَم ہے کہ مجھے بھی کھانے کی دعوت دے رہے ہو،تمہارے جذبے کو سلام۔ '' وہ باصرارمجھے کچھ نہ کچھ کھلا دیتے۔ ان کے صبر اور عبادت وریاضت کو دیکھ کر ان کارعب و دبدبہ میرے دل میں گَھر کر چکا تھا۔
ہم منزلوں پر منزلیں طے کرتے سوئے حرم رواں دواں تھے۔ ایک دن راستے میں ایک شخص ملا جس کے پاس ایک گدھا تھا،بزرگ نے مجھ سے فرمایا:'' جاؤ اور وہ گدھا خرید لاؤ۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! بزرگ کی یہ بات سن کر ان کے جلال کی وجہ سے مجھ سے انکار نہ ہوسکا۔ میں نے گدھے والے سے قیمت معلوم کی تو اس نے کہا: ''میں تیس (30)دینار سے ایک درہم بھی کم نہ لوں گا ۔''میں نے بزرگ کو بتایا تو فرمایا:'' جاؤ! اتنے ہی میں خرید لو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بھلائی طلب کرو ۔'' میں نے کہا: ''اس کی قیمت کہاں سے ادا کروں ۔'' فرمایا:''بِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر اپنا ہاتھ میرے تھیلے میں ڈالو اور اپنی مطلوبہ رقم حاصل کرلو۔'' میں نے جیسے ہی بِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر تھیلے میں ہاتھ ڈالا میرے ہاتھ میں ایک تھیلی آئی جس میں پورے تیس دینار تھے نہ کم نہ زیادہ ۔ میں دینار دے کر گدھالے آیا تو فرمایا:'' تم اس پر سوار ہوجاؤ۔'' میں نے کہا: ''حضور! آپ مجھ سے زیادہ عمر رسیدہ و کمزور ہیں، اس لئے آپ سوار ہوجائیں اور میں پیدل چلتا ہوں ۔'' بہر حال میرے اصرار پر وہ سوار ہوگئے اور میں ان کے ساتھ چلنے لگا ،ہم سارا دن سفر اور رات کو قیام کرتے، وہ بزرگ پوری رات نماز پڑھتے ہوئے گزار دیتے ۔
جب ہم''عُسْفَان'' پہنچے تو ایک شخص اس بزرگ سے ملا ، سلام کیا اور دونوں نے ایک طرف ہوکر کچھ گفتگو کی پھر دونوں نے رونا شروع کردیا ، کافی دیر روتے رہے ۔جب جد ا ہونے لگے تو بزرگ نے اس شخص سے کہا : ''مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔'' فرمایا: ''ہاں! دل کے تقویٰ کو لازم کرلو۔ ہرگھڑی قیامت کا ہولناک منظر تمہارے پیش نظر ہونا چاہے۔'' عرض کی:'' مزید کچھ نصیحت فرمایئے۔'' فرمایا :'' ہاں! جب آخرت کی طرف جاؤ تو اچھے اعمال لے کر جانا ۔ اپنے دل کو دنیوی مال ودولت کی محبت سے پاک