Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
206 - 412
صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فرمانِ عبرت نشان کے عین مطابق چوتھے دن اس بد بخت کے چہرے پر گندے پھوڑے نکل آئے اوراس کے منہ سے پیپ اور خون بہنے لگا۔بالآخر ظہر کی نماز سے قبل وہ گستا خ و نامراد بڑی ذلت آمیز اور عبرتناک موت مر گیا۔

؎ نہ اُٹھ سکے گا قیامت تَلَک خدا کی قسم!  جسے مصطفی(ا)نے نظر سے گرا کر چھوڑ دیا 

    (اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ،بے اَدبوں اور گستاخوں سے ہمیشہ محفوظ فرمائے۔ ہم سے کبھی کوئی ادنیٰ سی گستاخی بھی سر زد نہ ہو۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! گستاخوں کا انجام بڑا دردناک وعبرتناک ہوتا ہے۔ ایسے نامراد ،زمانے بھر کے لئے عبرت کا سامان بن جاتے ہیں۔ جو نامرادو بد بخت اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شان میں ناز یبا کلمات بکتا یا صحابۂ کرام اوراولیاءِ عُظام رحمہم اللہ تعالیٰ کی بے ادبی کرتا ہے آخرت میں تو تباہی و بر بادی اس کا مقدر ضرورہوگی لیکن وہ دنیا میں بھی ذلیل ورُسوا ہو کر زمانے بھر کے لئے نشانِ عبرت بن جاتا ہے اور عقلمند لوگ کبھی بھی اس کے عقائد و اعمال کی پیروی نہیں کرتے۔ اللہ ربُّ العزَّت ہمیں ہمیشہ با ادب لوگو ں کی صحبت میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بڑوں کاادب اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم) 

     ہم اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے سچی محبت کرتے ہیں۔ ہمیں تمام انبیاء کرام ، صحابۂ کرام اور اولیاءِ عُظام علیہم الصلٰوۃ والسلام سے سچی محبت ہے۔ ہمیں یقینِ کا مل ہے کہ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی محبت کے صدقے ہماری مغفرت ہو گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ہر گھڑی بے ادبوں سے محفوظ رکھے ، امیرِ اہلسنت حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں استغاثہ کرتے ہیں:

؎ محفوظ سدا رکھنا شہا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم!بے ادبوں سے  اور مجھ سے بھی سر زد نہ کبھی بے ادبی ہو !

(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
حکایت نمبر:349             تین عبادت گزار اسرائیلی
    حضرتِ سیِّدُنا کَعْبُ ا لْا َ حْبَار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے تین عبادت گزار جمع ہوئے اور کہنے لگے: ''آؤ !ہم میں سے ہر ایک اپناسب سے بڑا  گناہ یاد کرے۔ چنانچہ، پہلاشخص اپنی زندگی کا سب سے بڑا گناہ بتاتے ہوئے کہنے لگا: '' ایک مرتبہ میں اور میرا ایک دوست کہیں جارہے تھے۔ ہمارا آپس میں کسی بات پر اختلاف ہوگیا ۔راستے میں ہمارے درمیان ایک درخت حائل ہوا،میں اچانک درخت کی اوٹ سے نکل کر اس کے سامنے آیاتو وہ مجھ سے خوفزدہ ہوگیا اور کہنے لگا: ''میں تجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتاہوں۔ '' بس یہی مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خطا معلوم ہوئی،اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے معاف فرمائے۔ ''
Flag Counter