صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فرمانِ عبرت نشان کے عین مطابق چوتھے دن اس بد بخت کے چہرے پر گندے پھوڑے نکل آئے اوراس کے منہ سے پیپ اور خون بہنے لگا۔بالآخر ظہر کی نماز سے قبل وہ گستا خ و نامراد بڑی ذلت آمیز اور عبرتناک موت مر گیا۔
؎ نہ اُٹھ سکے گا قیامت تَلَک خدا کی قسم! جسے مصطفی(ا)نے نظر سے گرا کر چھوڑ دیا
(اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ،بے اَدبوں اور گستاخوں سے ہمیشہ محفوظ فرمائے۔ ہم سے کبھی کوئی ادنیٰ سی گستاخی بھی سر زد نہ ہو۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! گستاخوں کا انجام بڑا دردناک وعبرتناک ہوتا ہے۔ ایسے نامراد ،زمانے بھر کے لئے عبرت کا سامان بن جاتے ہیں۔ جو نامرادو بد بخت اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شان میں ناز یبا کلمات بکتا یا صحابۂ کرام اوراولیاءِ عُظام رحمہم اللہ تعالیٰ کی بے ادبی کرتا ہے آخرت میں تو تباہی و بر بادی اس کا مقدر ضرورہوگی لیکن وہ دنیا میں بھی ذلیل ورُسوا ہو کر زمانے بھر کے لئے نشانِ عبرت بن جاتا ہے اور عقلمند لوگ کبھی بھی اس کے عقائد و اعمال کی پیروی نہیں کرتے۔ اللہ ربُّ العزَّت ہمیں ہمیشہ با ادب لوگو ں کی صحبت میں بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بڑوں کاادب اور چھوٹوں پر شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
ہم اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے سچی محبت کرتے ہیں۔ ہمیں تمام انبیاء کرام ، صحابۂ کرام اور اولیاءِ عُظام علیہم الصلٰوۃ والسلام سے سچی محبت ہے۔ ہمیں یقینِ کا مل ہے کہ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی محبت کے صدقے ہماری مغفرت ہو گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ہر گھڑی بے ادبوں سے محفوظ رکھے ، امیرِ اہلسنت حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں استغاثہ کرتے ہیں:
؎ محفوظ سدا رکھنا شہا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم!بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سر زد نہ کبھی بے ادبی ہو !
(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)