حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی دائیں جانب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر اور بائیں جانب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے۔حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اتباع میں انہوں نے بھی سبز لباس پہنا ہوا تھا۔ سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میری طر ف متوجہ ہوکرارشاد فرمایا: ''اے عقل مند شخص !تو نے اپنے مالک کا پیغام ہم تک کیوں نہیں پہنچایا ؟'' حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ہیبت اوررُعب ودبدبہ اتنا تھا کہ میں نے سر جھکائے دست بستہ عرض کی:'' میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے شرم آتی تھی کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو آپ کے پہلو میں آرام فرما دوستوں کے متعلق اپنے بد بخت مالک کا گستاخانہ پیغام سناؤں۔''
سرکار عالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ''اے خوش بخت! اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو حج کرنے کے بعد بخیر وعافیت '' خُرَاسَان '' واپس جائے گا۔ جب تو اپنے مالک کے پاس پہنچے تو کہنا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اُس سے بیزار ہیں جو صدیق وفاروق (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )سے بیزار ہے ۔'' کیا تو سمجھ گیا ہے ؟'' میں نے کہا : '' جی ہاں، میرے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !میں سمجھ گیا۔'' پھر فرمایا:'' جان لے! جب تو وہاں پہنچے گا تو چوتھے دن وہ مرجائے گا، کیا تو سمجھ گیا؟'' میں نے عرض کی:'' جی ہاں، میرے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میں سمجھ گیا ۔'' فرمایا: ''توجہ سے سن! مرنے سے پہلے اس کے منہ سے پیپ وخون نکلے گا،کیا تو سمجھ گیا ؟'' میں نے عرض کی :''میرے آقا! میں خوب سمجھ گیا۔''
پھر آقائے نامدار، ہم غریبوں کے مالک ومختار، باذن پرورد گار غیبو ں پر خبردار، مکی مدنی سر کار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم واپس تشریف لے گئے اورمیں بیدار ہوگیا۔ حضور نبئ پاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدنا صدیقِ اکبروفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زیارت ہونے پر میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوب شکر ادا کیا۔ پھر میں نے حج کیا اور مخبرِ صادق صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے فرمان کے مطابق اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بخیر و عافیت واپس '' خُرَاسَان '' آگیا۔ میں اپنے ساتھ بہت سے موسمی پھل وغیرہ بھی لایا۔میرے بدبخت مالک نے دو دن تک مجھ سے کوئی بات نہ کی، تیسرے دن پوچھنے لگا: '' میرا پیغام پہنچا یا یا نہیں ؟'' میں نے کہا:'' میں نے تمہارا کام پورا کردیا۔''کہا:''وہاں سے کیاجواب ملا؟'' میں نے کہا:''اگروہاں سے ملاہواپیغام نہ سنو تو تمہارے لئے بہتر ہے ۔ '' کہنے لگا : '' نہیں ، مجھے بتاؤ!تمہارے ساتھ کیاواقعہ پیش آیا؟''میں نے واقعہ سناناشروع کیا۔ جب میں نے یہ بتایاکہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''اپنے مالک سے کہہ دینا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس سے بیزار ہیں جو میرے دونوں دوستوں صدیق وفاروق (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیزار ہے۔ '' میرا یہ قول سن کر وہ بد بخت ونامراد قہقہے مار کر ہنسنے لگا۔ پھر اس طر ح بکواس کی:''ہم ان سے بیزار ہیں اوروہ ہم سے بیزار ہوگئے ، اب ہم سکون سے رہیں گے۔'' اس بدبخت کی یہ بات سن کر میں نے دل میں کہا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن! جلد ہی تو اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے ۔'' حضور