| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
دوسرے نے کہا :'' میں اسرائیلی ہوں، ہماری شریعت میں حکم ہے کہ'' اگر کسی کے جسم پر نجاست لگ جائے تو جسم کا وہ حصہ کاٹنا ضروری ہے''۔ ایک مرتبہ میرے جسم پر پیشاب لگ گیا تومیں نے آلودہ حصہ کاٹ دیا لیکن کاٹنے میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا۔ بس یہی گناہ میری زندگی کا سب سے بڑا گناہ ہے۔ اللہ ربُّ العزَّت میرے اس گناہ کو معاف فرمائے ۔''
تیسرے نے کہا:''ایک مرتبہ میری والدہ نے مجھے پکارا تومیں نے فوراً ''لَبَّیْک''کہا،لیکن تیز ہَواکی وجہ سے آوازوالدہ تک نہ پہنچ سکی تووہ غصے میں آکر مجھے پتھر مارنے لگی۔ میں لاٹھی لے کراس کی طرف گیاتاکہ وہ اس کے ذریعے مجھے مارے اوراس کاغُصَّہ ٹھنڈاہوجائے ، لاٹھی دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوکربھاگی اوراس کاسردرخت سے ٹکرا کر زخمی ہو گیا ۔بس یہی میری زندگی کاسب سے بڑاگناہ ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے اس گناہ کومعاف فرمائے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے اعمال کا محاسبہ کر کے گناہوں پر شرمندہ ہو کرمعافی مانگنا مغفرت کا باعث ہے۔ ہو سکے تو روزانہ رات کو سونے سے قبل دو رکعت''صَلٰوۃُ التَّوبَہ'' پڑھ کر دن بھر کے بلکہ سابقہ تما م گناہوں سے توبہ کرلینی چاہے۔ )حکایت نمبر:350 تلاوت ہو تو ایسی ہو۔۔۔۔۔۔!
یزید بن محمد بن مَسْلَمَہ بن عبدالمَلِک سے منقول ہے کہ ہمیں ہمارے ایک غلام نے بتایا: حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر کے انتقال کے بعد ان کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ عبدالمَلِک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا بہت زیادہ روتیں یہاں تک کہ اُن کی بینائی جاتی رہی ۔ ایک مرتبہ ان کے بھائی مَسْلَمَہ اورہِشَام آئے اور کہا:'' پیاری بہن! آخر آپ اتنا کیوں روتی ہیں ؟ اگر آپ اپنے شوہر کی جدائی پر روتی ہیں تو وہ واقعی ایسے مردِ مجاہد تھے کہ ان کے لئے رویا جائے۔ اگر دنیوی مال ودولت کی کمی رُلا رہی ہے تو ہم اور ہمارے اموال سب آپ کے سامنے حاضر ہیں ؟'' حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بنتِ عبدالمَلِک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے فرمایا: ''میں ان دونوں باتوں میں سے کسی پر بھی نہیں رو رہی۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے تو وہ عجیب وغریب اوردرد بھرا منظر رُلا رہا ہے جو میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر کے ساتھ ایک رات دیکھا ۔اس رات میں یہ سمجھی کہ کوئی انتہائی ہولناک منظر دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ حالت ہوگئی ہے اور آج رات آپ کا انتقال ہوجائے گا۔''
بھائیوں نے پوچھا:''پیار ی بہن! ہمیں بتایئے کہ آپ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر کو اُس رات کس