Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
204 - 412
حکایت نمبر348:          شیخین کریمین کے گستاخ کا عبرتناک انجام
    حضرتِ سیِّدُنا ابو محمدخُرَاسَانِی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِی کا بیان ہے کہ'' ایک خُرَاسَانی تاجر کا غلام بہت نیک وپارسا تھا۔ موسِمِ حج میں جب حاجیوں کے قافلے سوئے حرمین جانے لگے تو اس نیک غلام کے دل میں بھی حاضری کی خواہش جوش مارنے لگی ۔ اس نے مالک کے پاس جاکر حالِ دل سنایا اور حاضری کی اجازت طلب کی۔ بد بخت وگستاخ تاجر نے انکار کردیا۔ غلام نے کہا: ''میں اللہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی فرمانبرداری کی اجازت مانگ رہا ہوں، تم اجازت کیوں نہیں دیتے۔'' تاجر نے کہا: ''اگر تم میرا ایک کام کرو تو میں اجازت دے دوں گا ورنہ ہر گز اجازت نہ دوں گا ،پکاوعدہ کرو کہ تم وہ کام کروگے۔'' غلام نے کہا: ''بتاؤ! کیا کام ہے ؟ '' بدبخت تاجر بولا:''میں تمہارے ساتھ بہترین سواریاں ،خدام ، اچھے رفقاء اور دیگر بہت سی اشیاء بھیجوں گا۔ جب روضۂ رسول عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر جاؤ تو وہاں جاکر یہ کہنا :''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے آقا نے یہ پیغام بھجوایا ہے کہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دونوں دوستوں ابوبَکْر صدیق و عمرِ فاروق(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) سے بیزار ہوں۔ '' اگرمیرا یہ پیغام پہنچانے کی حامی بھر لو تومَیں تمہیں بخوشی اجازت دیتاہوں ۔غلام کا بیان ہے کہ اپنے بدبخت مالک کی یہ گستاخانہ باتیں سن کر میرا دل بہت جَلا، میں بہت غمگین ہو گیا۔ بظاہر تو میں نے کہہ دیا کہ میں فرمانبردار وطاعت گزار ہوں لیکن جو میر ے دل میں تھا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بہتر جانتاہے ۔ بہر حال میں قافلے کے ہمراہ مدینۂ منورہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا پہنچا، دھڑکتے دل ،لزرتے قدموں ، پرنم آنکھوں کے ساتھ روضۂ رسول عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جانب بڑھنے لگا:

؎ ہوئیں اُمیدیں بار آور مدینہ آنے والا ہے 		جھکا لو اب ادب سے سر مدینہ آنے والا ہے

    قبرِ انورپر پہنچ کر جانِ عالم، سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ ،با عث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں سلام عرض کیا۔ پھرامیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبَکْر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورامیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں سلام عرض کیا۔ مجھے اپنے بد بخت وگستاخ مالک کا قبیح الفاظ پر مشتمل پیغامِ بد، حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں پہنچانے سے بہت شرم آرہی تھی لہٰذا میں باز رہا۔ اور مسجد ِنبوی میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قدمینِ شریفین میں سو گیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ قبرِ انور کی دیوار شق ہوئی اور حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نور بار چہرہ چمکاتے ہوئے باہر تشریف لے آئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سبز لباس زیبِ تن کیا ہواتھا اور جسمِ اطہر سے مشک کی خوشبو آرہی تھی۔ سارا ماحول مشکبار ہو گیا۔ مسجد نبوی کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا تھا کہ حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لاچکے ہیں۔
؎ عنبر زمیں، عبیر ہوا، مشک تر غبار		ادنیٰ سی یہ شناخت تری راہ گزر کی ہے
Flag Counter