میں حج کو نہ جاسکا، حُجَّاج کا قافلہ روانہ ہوگیا اور میں رہ گیا ۔ لیکن مجھے اس سید زادی کی مدد کر نے پر ایسا دِلی سکون ملا کہ اس سے قبل کبھی ایسا سکون نہ ملا تھا ۔حج کی سعادت حاصل کرکے حُجَّاجِ کرام کے قافلے واپس آرہے تھے۔ جب ہمارا قافلہ آیا تو میں نے دل میں کہا: ''مجھے اپنے دوستوں سے مل کر انہیں حج کی مبارک باد دینی چاہے ۔''
چنانچہ، میں اپنے دوستوں کے پاس گیا، میں اپنے جس بھی حاجی دوست سے مل کر حج کی قبولیت کی دعا اور مُبَارَک باد دیتا تو وہ کہتا: '' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا حج بھی قبول فرمائے اور آپ کی سعی قبول فرمائے ۔''میں جتنے دوستوں سے ملا سب نے مجھے حج کی مبارکباد اور قبولیتِ حج کی دعا دی۔ میں بڑا حیران ہواا ور سوچنے لگا کہ جب میں نے اس سال حج کیا ہی نہیں تو یہ لوگ مجھے کس بات کی مُبَارَک دے رہے ہیں؟ بہر حال میں حیران و متعجب اپنے گھر لوٹ آیا، رات کو سویا تو میری سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی۔ ہم غریبوں کے آقا ،مدینے والے مصطفی، رسولِ خدا، احمد ِمجتبیٰ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنا نورانی چہرہ چمکاتے ہوئے تشریف لائے، لبہائے مبارَکہ کو جنبش ہوئی، رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے :
''لوگ جو تجھے حج کی مبارکباد دے رہے ہیں اس پر تعجب نہ کر ، تو نے ایک حاجت مند کی مدد کی ، مسکین کو غنی کردیا ، میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی ،اللہ تبارک وتعالیٰ نے تیری صورت کا ایک فرشتہ پیدا فرمادیا اب وہ ہر سال تیری طر ف سے حج کرتا رہے گا ، اب اگر تو چاہے تو (نفلی) حج کر چاہے نہ کر۔''
؎ جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ ربُّ العزَّت نے اس جہاں میں ہر طر ح کے لوگ پیدا فرمائے، کسی کو غریب بنایا تو کسی کو امیر ی عطا کی ، کسی کو طاقتور بنایا تو کسی کو کمزور،وہ مالکِ لَمْ یَزَل بے نیاز ہے جو چاہے کرے ، ہمیں اس کی رضا پر راضی رہنا چاہے۔ اس نے ہمیں غرباء وفقراء کی مدد کا حکم دیا ہمیں اپنے خالق عَزَّوَجَلَّ کے فرمان پر دل وجان سے عمل کرنا چاہے ، اگر ہم مستحقین کی امداد کرتے رہیں گے تو اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری دنیا وآخرت سنور جائے گی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دوسروں کامعاون ومدد گار بنائے اور ہمیشہ اپنا محتاج رکھے اپنے علاوہ کسی اور کا محتاج نہ کرے۔)
؎ نہ محتاج کر تو جہاں میں کسی کا مجھے مفلسی سے بچا میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!
( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)