Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
194 - 412
 ''میں نے تین باتوں کی وجہ سے تجھے بخش دیا: (۱)۔۔۔۔۔۔ تو مجھ سے اس حال میں ملا کہ جس سے میں محبت کرتا تھا تو نے بھی اسے محبوب رکھا(۲)۔۔۔۔۔۔ تو مجھ سے اس حال میں ملا کہ تیرے پیٹ میں شراب کا ایک قطرہ بھی نہ تھا اور(۳)۔۔۔۔۔۔ تو مجھ سے اس حال میں ملا کہ تیرے سفید بالوں میں سرخ خضاب لگا ہوا تھا اور مجھے حیا آتی ہے کہ اس شخص کو آگ کا عذاب دوں جس کے سفید بالوں میں سرخ خضاب لگا ہوا ہو۔'' اتنا کہہ کر وہ بزرگ واپس قبر میں چلا گیا اور قبر بند ہوگئی ۔'' حضرتِ سیِّدُنا غَسُّوْلِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے کہا :'' اے ابو اِسحاق علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق! کیا آپ مجھے اس قبر پر نہیں لے چلیں گے؟'' فرمایا:'' اے غَسُّوْلِی علیہ رحمۃ اللہ القوی! تیرا بھلا ہو! تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ اپنے معاملات درست کرلے تو وہ تجھے بھی عجیب و غریب چیز یں دکھائے گا ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر:340             سادات کی دستگیری پر انعام
    حج کا پُر بہار موسم تھا، خوش نصیب حُجَّاج اپنی دیرینہ آرزو کی تکمیل کے لئے قافلوں کی صورت میں سوئے حرم رواں دواں تھے۔جو پہلی مرتبہ جارہے تھے ان کی کیفیت کچھ اور تھی جو بار بار زیارتِ حرمینِ شریفین سے مشرَّ ف ہوچکے تھے ان کی کیفیت کچھ اور تھی۔بار بار حاضری دینے کے باوجود دل بھرتا ہی نہیں۔ یہ مُبَارَک سفر ہر سال ہی بہت پیارا ہوتا ہے چا ہے کوئی پہلی بار جائے یا بار بار جائے کسی کی بھی محبت و دیوانگی میں کمی نہیں آتی۔ حُجَّاج کرام کا ایک قافلہ جب عُرُوْ سُ الْبِلاد بغداد شریف پہنچا تو حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا دل مچلنے لگا ، تمنائے زیارت نے دل کوبے چین کردیا۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حُجَّاج کے قافلے کے ہمراہ جانے کا عزمِ مُصَمّم (یعنی پختہ ارادہ )کر لیا اور سفر کا ضروری سامان خرید نے کے لئے پانچ سو دینار لے کر بازار کی جانب روانہ ہو گئے ، راستے میں ایک خاتون ملی جس کی حالت بتا رہی تھی کہ یہ غربت وافلاس کا شکار ہے۔ اس خاتون نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا: '' اے بندۂ خدا! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے، میں سید زادی ہوں، حوادثاتِ زمانہ کے ہاتھوں مجبور ہوکر دستِ سوال دراز کر رہی ہوں۔ میری چند بیٹیاں ہیں ان بیچاریوں کے پاس تن ڈھانپنے کے لئے کوئی کپڑا نہیں ، آج چوتھا دن ہے ہم ماں بیٹیوں میں سے کسی نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا۔''

     سیدزادی کی درد بھری داستان سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا دل بھر آیا۔ آپ نے پانچ سو دینار اس کی چادر میں ڈال دیئے اور کہا :'' اپنے گھر جلدی سے جاؤ اور یہ رقم اپنے استعمال میں لاؤ! اللہ ربُّ العزَّت تمہارا حامی وناصر ہو۔'' وہ غریب سید زادی حمد ِ خداوندی بجالائی اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھرروانہ ہوگئی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' اس سال
Flag Counter