Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
196 - 412
حکایت نمبر:341            بیماری بلندی درجات کاسبب
     حضرت سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے: دو عبادت گزار پچاس سال تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے رہے پچا سویں سال کے آخر میں ان میں سے ایک کے جسم میں ایک خطرناک بیماری لگ گئی ،اس نے آہ وزاری کی اور بارگاۂ خداوند ی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح مُلْتَجِی ہوا(یعنی التجاکرنے لگا):'' اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میں نے اتنے سال مسلسل تیرا حکم مانا، تیری عبادت بجا لایا پھر بھی مجھے اتنی خطرنا ک بیماری میں مبتلا کردیا گیا، اس میں کیا حکمت ہے ؟ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میں توآزمائش میں ڈال دیا گیا ہوں ۔''

     اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرشتوں کو حکم فرمایا:اس سے کہو،'' تو نے جو عبادت و ریاضت کی وہ ہماری ہی عطا کردہ تو فیق ہے، وہ میرے احسان اور میری مدد کا نتیجہ ہے۔ باقی رہی بیماری تو اس میں میں نے تجھے اس لئے مبتلا کیا تاکہ تجھے اَبراروں کے مرتبہ پر فائز کر دوں ۔ تجھ سے پہلے کے لوگ تو بیماری ومصائب کے خواہش مندہوا کرتے تھے ۔ اور تجھے تو میں نے بِن مانگے عطا کردی ۔''

    (اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں عافیت عطا فرما اور جب بیماری وغیرہ آئے تو اس پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرما۔)

؎ میری مشکلیں گر تِرا امتحان ہیں                   تو ہر غم قَسَم سے خوشی کا سماں ہے 

گناہوں کی میرے اگر یہ سزا ہے                   تو پھر مشکلوں کو مٹا میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!

                               ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر:342              دُعاقبول نہ ہونے کاسبب
    حضرتِ سیِّدُنا عُبَّاد خوَّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے منقول ہے: ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کسی مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھائے رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلاماسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں عرض گزار ہوئے: ''اے میرے رحیم وکریم پروردْگار عَزَّوَجَلَّ! تو اپنے اس بندے کی دعا کیوں نہیں قبول کررہا ؟''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپعلیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی: ''اے موسیٰ !اگر یہ شخص اتنا روئے، اتنا روئے کہ اس کا دم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں تب بھی میں اس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔'' حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے عرض کی :'' میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اس کی کیا وجہ ہے ؟'' ارشاد ہوا: '' یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں حرام مال ہے۔ ''
Flag Counter