Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
193 - 412
مجھے اپنے دامن میں چھپالے گی ، بالآخر بچے کی گریہ وزاری دیکھ کر ماں نے اسے اپنی مامتا بھری گود میں اٹھالیا اور اس کی خطا کو معاف کردیا۔ ہمارا پروردگار جو ہم پر ستر ماؤں سے بھی زیادہ مہربان ورحیم ہے وہ ہم سے کتنی محبت کرتا ہوگا ۔

     ہمیں بھی چاہے کہ کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس میں ہمارے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی ہو پھر بھی بتقضائے بَشرِیَّت جب بھی کوئی خطا سرزد ہو فوراً اس رحیم و کریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ رَیز ہو کر رو روکر اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرلینا چاہے۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر خدا نخواستہ وہ مالک ِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ ہم سے ناراض ہوگیا تو ہم کہیں کے بھی نہ رہیں گے، دُنیا وآخرت تباہ وبرباد ہوجائے گی ۔ہمیں اپنے پیارے ، رحیم وکریم،ستار وغفار رب عَزَّوَجَلَّ سے اُمید ِ واثق ہے کہ وہ مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ہماری خطاؤں کو ضرور معاف فرمائے گا اور اپنے رحمت کے سائے میں ضرور جگہ عطا فرمائے گا۔ جو اس پر بھروسہ کرتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ، وہ اتنا عطا فرماتا ہے کہ عقلیں اس کی عطاؤں کا اِدراک نہیں کرسکتیں۔

     ہم اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ہمیشہ اپنی ناراضگی سے بچائے رکھے اور اپنی رضا والے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))

؎ عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا               یہ کرم کردے تو جنت میں رہوں گا یا رب عَزَّوَجَلَّ !
حکایت نمبر:339              اچانک قبر کُھل گئی
    حضرتِ سیِّدُنا ابو یوسف غَسُّوْلِی علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں:'' میں ملک ِ شام میں حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے ساتھ رہتا تھا ، ایک دن وہ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: '' اے غَسُّوْلِی !آج میں نے ایک بہت عجیب وغریب بات دیکھی ۔'' میں نے کہا : ''اے ابو اِسحاق(علیہ رحمۃ اللہ الرزَّاق) !آپ نے کون سی عجیب بات دیکھی ہے ؟'' فرمایا : ''آج میں قبرستان میں کھڑا تھا کہ ایک قبر اچانک کھل گئی اور ایک سفید ریش شخص نمودار ہوااس کے سفید بالوں میں سرخ مہندی لگی ہوئی تھی ، اس نے مجھ سے کہا : اے ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم!اللہ ربُّ العزَّت نے مجھے آپ کی خاطر زندہ کیا ہے ،آپ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھئے۔''

     میں نے کہا : ''مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا۔'' اس سفید ریش بزرگ نے کہا: ''میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملا کہ میرے اعمالِ سیِّئہ(یعنی بُرے اعمال) میرے ساتھ تھے، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے فرمایا :
Flag Counter