Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
190 - 412
کہ مردے زندوں کے احوال جانتے ہیں ۔''

    چنانچہ،حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عباس وَرَّاق علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق سے مروی ہے کہ'' ایک شخص اپنے والد کے ساتھ سفر پر روانہ ہوا ، راستے میں دَوْم(یعنی سیب کی طر ح سرخ رنگ کے پھلوں والے خاص درخت ) کے پاس اس کے والد کا انتقال ہوگیا۔ بیٹا اسے درخت کے قریب ہی دفنا کر سفر پر روانہ ہوگیا۔ کچھ عرصہ بعد جب اس نوجوان کاگزر اس درخت کے قریب سے ہوا تو اپنے والد کی قبر پر نہ ٹھہرا، یکا یک ہاتف ِ غیبی کی آواز نے اسے چونکا دیا، فضا میں آواز گو نجنے لگی:

    ''میں نے تجھے رات کے وقت دَوْم کے درخت کے قریب سے گزرتا ہوا پایا تجھ پر لازم ہے کہ دوم والے سے گفتگو کر ، دوم کے درخت کے قریب ایک شخص رہتا ہے، کاش! تو اس کی جگہ ہوتا، کچھ دیر دوم والے کے پاس ٹھہر اور اسے سلام کر۔''

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں آخرت میں اچھی جزا عطا فرمائے اور اپنے عفو وکرم کے سائے میں رکھے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر:337                  ویران محل
    حضرتِ سیِّدُنا صالح مُرِّی علیہ رحمۃ اللہ القوی ایک مرتبہ ایک محل کے قریب سے گزرے تو ایک نوجوان کنیز ہاتھوں میں دَف اٹھائے یہ نغمہ گارہی تھی:'' ہم لوگ ایسی نعمتوں اور خوشیوں میں ہیں جو کبھی زائل (یعنی ختم) نہ ہوں گی ۔'' یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا صالح مُرِّیّ علیہ رحمۃ اللہ القوی نے اس کنیز سے کہا :'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تو جھوٹ بول رہی ہے ، پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہا ں سے روانہ ہو گئے۔'' کچھ عرصہ بعد جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا گزر دوبارہ اس محل کے قریب سے ہوا تو دیکھا کہ اس محل پر بوسیدگی وشکستگی کے آثار نمایاں تھے نوکرچاکرسب غائب تھے ،محل کی تمام زیب وزینت خاک میں مل چکی تھی، گر دشِ ایام کی زد میں آکر وہ زیب وزینت کا شاہکار خراب وبیکار ہوچکاتھا گویا وہ ویران محل پکار پکار کر زبانِ حال سے یوں کہہ رہا تھا:
؎ اَجل  نے  نہ کسریٰ  ہی  چھوڑا نہ دارا 		اسی  سے  سکندر  سا فاتح بھی ہارا

ہر اک لے کے کیا کیا نہ  حسرت سِدھارا 		پڑا رہ  گیا  سب  یونہی  ٹھاٹھ سارا

جگہ  جی  لگانے   کی  دنیا  نہیں  ہے		یہ عبرت کی جا ہے  تماشا  نہیں ہے
    آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے محل کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر بآ وازِ بلند کہا:'' اے ویران محل! تیرے مکین کہا ں ہیں ؟ کہاں گئے تیرے خدام؟ تیری زیب وزینت کو کیا ہوا ؟ کہا ں ہے وہ جھوٹی کنیز جس کا یہ گمان تھا کہ ہماری نعمتیں اور خوشیاں ختم نہ ہوں گی؟ کہا ں گئی اب وہ نعمتیں اور خوشیاں ؟'' ابھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ محل کے اندر سے یہ غیبی آواز
Flag Counter