| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
سنائی دی:'' اے صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! جب مخلوق کا مخلوق پر اتنا غضب ہے تو مخلوق پر خالق کے غضب کا عالَم کیا ہوگا؟'' پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوگو ں کی طر ف متوجہ ہوئے اور زارو قطار روتے ہوئے یوں گویا ہوئے: اے لوگو! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جہنمی اس طرح پکاریں گے: ''اے ہمارے پرور دگار عَزَّوَجَلَّ ! تو جو چاہے ہمیں عذاب دے ، لیکن ہم پر غضب نہ فرما ، بے شک تیرا قہر و غضب ہم پر آگ سے زیادہ شدید ہے۔ اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! جب تو ہم پر غضب فرماتا ہے تو عذاب کی زنجیر یں، بیڑیاں اور جہنمی طوق ہم پر تنگ ہوجاتے ہیں ۔''
؎ عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا گر کرم کر دے تو جنت میں رہوں گایا رب عَزَّوَجَلَّ!
(پیارے اسلامی بھائیو! یہ حکایت اپنے اندر عبرت کے بے شمار مدنی پھول لئے ہوئے ہے ۔ انسان کو دنیا کی ظاہری زیب وزینت کے دھوکے میں پڑ کراپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل نہیں ہوناچاہے۔افسوس ہے اس پر جو دنیا کی نیرَنْگیاں دیکھنے کے باوجود بھی اس کے دھوکے میں پڑ کر اپنی موت اور قبر و حشر کو بھول جائے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اعمالِ صالحہ کی طرف راغب نہ ہو، ایسا شخص واقعی قابلِ مذمت ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا کے دھوکے سے بچنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے:یاۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿5﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگو ! بے شک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہر گز تمہیں دھوکہ نہ دے دنیا کی زندگی اور ہر گز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔ (پ22، الفاطر:5)
خوش نصیب ہے وہ شخص جو دنیا کے دھوکے سے بچے اور آخرت کی تیاری کے لئے ہر دم کوشاں رہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا کے دھوکے سے بچا کر آخرت کی تیاری کے لئے اعمالِ صالحہ کی تو فیق عطا فرمائے ، اپنی ناراضگی سے بچا کر رضائے دائمی کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))حکایت نمبر:338 ہائے!میراد ل کہاں ہے....؟
حضرتِ سیِّدُنا ابو الحسن فارسی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے: حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے معتقدین میں سے ایک شخص کی عقل جاتی رہی اور وہ مجنون ہوکر گلی کوچوں میں اس طر ح صدائیں لگاتا پھرتا:'' ہائے ! میرا دل کہاں ہے؟ ہائے! میرا دل کہا ں ہے؟ کیا کسی کو میرا دل ملا ہے؟ کیا کسی کو میرا دل ملا ہے ؟ میرا دل کہا ں ہے ؟'' بچے اس کا مذاق اُڑاتے اور پتھر مارتے۔ ایک دن وہ بچوں سے تنگ آکر ایک گلی میں داخل ہوکر ایک جگہ بیٹھ گیا ، کچھ دیر بعد ایک بچے کے رونے