Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
189 - 412
ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرے حمل کونہ روکے۔'' سعادت مندزوجہ نے جب یہ سنا تو کنیز سے کہا:'' جا!یہ دودھ واپس لے جا، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اسے ہر گز نہ چکھوں گی ۔'' چنانچہ، کنیز دودھ کا پیالہ واپس لے گئی ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)

    (سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! خلیفۂ اسلام کیسی عظیم صفات کے مالک تھے جن کی حکومت کے ڈَنکے عرب وعجم میں بج رہے تھے، ان کے گھر والو ں کی کیفیت کیا تھی؟ اسلام کے وہ پاسبان کیسے انصاف پسند تھے کہ بھوکا پیاسا رہنا منظور تھا لیکن کسی کے حق میں سے ایک گھونٹ لینے کو بھی تیار نہ تھے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے خلفاء کے صدقے ہمیں بھی امانت کی پاسدار ی ، دیا نت ، اخلاص اور اپنا خوف عطا فرمائے ۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))
حکایت نمبر:336                 حیاتِ برزخی
    حضرتِ سیِّدُناابوحَمْزَہ اَنصاری علیہ رحمۃ اللہ الباری، حضرتِ سیِّدُنا ابومُصْرِخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں جہاد کے لئے گیا تو میرا گز ر ملک ِ شام کے ایک قلعے کے قریب سے ہوا جس کا دروازہ بند تھا۔ دروازے کے ساتھ ہی ایک قبر تھی۔رات ہوچکی تھی لہٰذامیں نے یہیں رات گزارنے کافیصلہ کیااورقبرکے قریب لیٹ گیا۔میں سویاہواتھا کہ ایک غیبی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی ۔کوئی کہنے والاکہہ رہاتھا:''اے اُمیمہ!تُوہمارے پاس آ،اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرے۔'' آواز سن کر میں خوفزدہ ہوگیا اور نماز پڑھنے لگا۔ پھر جب صبح کا اُجا لا پھیلنے لگا تو میں دوبارہ سوگیا، میں نے پھر وہی آواز سنی: '' اے اُمیمہ! ہمارے پا س آ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں حالتوں میں تجھ سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرے، ہماری قبروں کے اندھیرے سے تعجب نہ کر تو مِٹی کے نیچے ہمارے پاس آجا۔ ''

     میں پھر گھبرا کر اٹھ بیٹھا،قلعے کے دروازے کی طرف دیکھا وہ کھل چکا تھا اور لوگ ایک جنازہ لئے آرہے تھے ۔ ان کے آگے ایک بوڑھا شخص تھا، میں نے اس سے کہا :'' یہ جنازہ کس کا ہے؟ '' کہا :'' یہ میری بیٹی کا جنازہ ہے۔'' میں نے کہا:'' اس کا نام کیا ہے ؟'' کہا:'' اُمیمہ۔'' میں نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: '' یہ قبر کس کی ہے ؟'' کہا : '' میرے بھتیجے کی،یہ میری بیٹی کا شوہرتھا فوت ہوگیا تو ہم نے اسے دفنا دیا، اب میری بیٹی بھی انتقال کر گئی ہے ہم اسے دفن کر نے آئے ہیں۔'' میں نے جب یہ سنا تو وہاں موجود لوگو ں کو اس آواز کے بارے میں بتایاجو میں نے رات کو دو مرتبہ سنی تھی ، لوگ یہ سن کر حیران رہ گئے ۔

    حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمن ابن جَوْزِی علیہ رحمۃ ا للہ القوی ا س حکایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: '' اس سے ثابت ہو ا
Flag Counter