Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
188 - 412
شوہر میری ان باتوں پر کوئی تو جہ نہ دیتا، پھر یہ مرگیا تو مرنے کے بعد سے آج تک اس کی قبر سے روزانہ اسی طرح کی آوازیں آتی ہیں۔'' میں نے پوچھا: ''مشکیزہ کیا ہے ؟'' بڑھیانے کہا:'' ایک مرتبہ اس کے پاس ایک پیاسا شخص آیا اس نے پانی مانگا تو کہا : ''جاؤ، اس مشکیزے سے پانی پی لو ، وہ پیاسا بے تا با نہ مشکیزے کی طرف دوڑا جب اٹھایا تو وہ خالی تھا پیاس کی شدت سے وہ بے ہوش ہو کر گِر گیا اور اس کی موت واقع ہوگئی ۔ پھر میرا شوہر بھی مرگیا اس کی وفات سے آج تک روزانہ اس کی قبر سے آواز آتی ہے ، مشکیزہ! مشکیزہ کیا ہے؟'' حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:''میں نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے تنہا سفر کر نے سے منع فرمادیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر:335        حضرت عمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللہ القدیر کا تقویٰ
    حضرتِ سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْد علیہ رحمۃاللہ الرَّب فرماتے ہیں:'' ہمیں یہ خبر پہنچی کہ عالَمِ اسلام کے عظیم خلیفہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ القدیر نے مسافروں ، مسکینوں او رفقراء کے لئے ایک مہمان خانہ بنا رکھا تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے گھر والوں کو تنبیہ کی ہوئی تھی کہ اس مہمان خانے سے تم کوئی چیز بھی نہ کھانا، اس کا کھانا صر ف مسافروں اور غرباء وفقراء کے لئے ہے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر آئے تو ایک کنیز کے ہاتھ میں پیالہ دیکھا جس میں صرف دو گھونٹ دودھ تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا : ''یہ کیا ہے؟'' کنیز نے عرض کی :'' اے امیر المؤمنین! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ حاملہ ہے، اسے چند گھونٹ دودھ پینے کی خواہش ہو رہی تھی اور جب حاملہ عورت کو وہ چیز نہ دی جائے جس کی اسے خواہش ہو توڈرہوتا ہے کہ اس کا حمل ضائع ہو جائے لہٰذا اسی خوف سے میں یہ دو گھونٹ دودھ مہمان خانے سے لے آئی ہوں ۔''

     حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کنیز کا ہاتھ پکڑا اور اپنی زوجۂ محترمہ کے پاس لے کرچلے، جاتے ہوئے بآوازِبلند فرمایا: '' اگر اس کا حمل فقیروں، محتاجوں اور مسافروں کا حق کھائے بغیر نہیں رُک سکتا تواللہ تبارک وتعالیٰ اسے نہ روکے۔'' پھراپنی زوجہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے عرض کی:'' میرے سرتاج! کیا بات ہے ؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' اس کنیز کا یہ خیال ہے کہ جو تیرے بطن میں حمل ہے وہ مسکینوں ، محتاجوں او رمسافروں کا حق کھائے بغیر نہیں رُک سکتا ، اگر یہی بات
Flag Counter