| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
بھڑکتی ہوئی آگ کیسے برداشت کریں گے۔اے ہمارے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! ہماری خطاؤں سے در گزر فرما، ہمیں متقی و پرہیز گار، والدین کا فرمانبردار اور سچا پکا عاشقِ رسول بنا ، دنیا و آخرت میں اپنی ناراضگی سے بچا ۔ ہم سے سدا کے لئے راضی ہوجا۔اے ہمارے مالک! تیری قسم! اگر تو ہم سے ناراض ہوگیا تو ہم تباہ وبر باد ہوجائیں گے پھر جہنم کی وہ بھڑکتی ہوئی آگ جس کے بارے میں قرآنِ پاک میں فرمایاجارہا ہے :
الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَۃِ ؕ﴿7﴾
ترجمۂ کنزالایمان:وہ جودلوں پرچڑھ جائے گی۔(پ30،الہمزہ:7)
(اے ہمارے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! کرم والامعاملہ فرما۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا صدقہ! ہم سے سدا کے لئے راضی ہوجا ۔)
؎ گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہو گی ہائے میں نارِ جہنم میں جلوں گا یا رب عَزَّوَجَلَّ
عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا یہ کرم کر دے تو جنت میں رہوں گا یا رب عَزَّوَجَلَّ
( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)حکایت نمبر334: پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے کاوبال
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے: ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا تو میرا گزر زمانۂ جاہلیت کے قبرستان سے ہوا ۔اچانک ایک مردہ قبر سے باہر نکلا اس کی گردن میں آگ کی رنجیربندھی ہوئی تھی میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا :'' اے عبداللہ ! مجھے تھوڑا سا پانی پلا دو ۔''میں نے دل میں کہا:'' اس نے میرا نا م لے کر مجھے پکارا ہے یا تو یہ مجھے جانتا ہے یا عربوں کے طریقے کے مطابق عبداللہ کہہ کر پکار رہا ہے ۔'' پھر اچانک اسی قبر سے ایک اور شخص نکلا اس نے مجھ سے کہا:''اے عبداللہ! اس نافرمان کو ہر گز پانی نہ پلانا ، یہ کافر ہے۔'' دوسرا شخص پہلے کو گھسیٹ کر واپس قبر میں لے گیا۔ میں نے وہ رات ایک بڑھیا کے گھر گزاری، اس کے گھر کے قریب ایک قبر تھی میں نے قبر سے یہ آواز سنی:'' پیشاب! پیشاب کیا ہے ؟ مشکیزہ! مشکیزہ کیا ہے ؟''
جب اس آوا زکے متعلق بڑھیا سے پوچھا تو اس نے کہا : ''یہ میرے شوہر کی قبر ہے۔ اسے دو خطا ؤ ں کی سز امل رہی ہے۔ پیشاب کرتے وقت یہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ، میں اس سے کہتی کہ تجھ پر افسوس! جب اونٹ پیشاب کرتا ہے تو وہ بھی اپنے پاؤ ں کشادہ کر کے پیشاب کے چھینٹوں سے بچتا ہے ،لیکن تو اس معاملے میں بالکل بھی احتیاط نہیں کرتا ، میرا