Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
186 - 412
دور نہ جاؤں۔'' اس نے ہاں میں سر ہلایا تو اس کے شوہر نے کہا :'' جب میں مرجاؤں تو میری لاش ایک تابوت میں رکھ دینا اور تابوت کو اپنے مکان ہی میں رکھنا، میرا جسم گلنے سڑنے سے محفوظ رہے گا۔'' موت کے بعد اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا اور تابوت کو اپنے کمرے میں محفوظ کرلیا۔ کچھ عرصہ بعد جب تا بوت کھول کر دیکھا تو اس کے شوہر کا ایک کان گَل کر ختم ہوچکا تھا۔عورت نے کہا: '' اس شخص نے اپنی زندگی میں کبھی بھی مجھ سے غلط بیانی نہیں کی ، اس نے تو کہا تھا کہ میرا جسم مرنے کے بعد سلامت رہے گا لیکن اس کا تو ایک کان گَل کر ختم ہوگیا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟'' ابھی یہ انہی خیالات میں گم تھی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مردے کے جسم میں روح لوٹا دی، اس نے اپنا کان گل جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا:'' ایک مرتبہ کسی مصیبت زدہ شخص نے مجھے مدد کے لئے پکارا میں نے اس کی آواز سنی لیکن مدد نہ کی، بس اسی وجہ سے میراوہ کا ن گل گیا جس سے میں نے مصیبت زدہ کی آواز سنی اور باوجودِ قدرت اس کی مدد نہ کی ۔''

     اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ رکھ کر رحم وکرم والا معاملہ فرمائے۔ اور جب کوئی مصیبت زدہ ہم سے مدد چاہے تو ہمیں اس کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جو شخص مصیبت میں کسی کی مدد کرتا ہے تو مشکل وقت میں اس کی بھی مدد کی جاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

؎ دُنیا نہ سمجھ اس کو میاں! دریا کی یہ منجدھار ہے      اَوروں کا بیڑا پار کر تیرا بھی بَیٹرا پار ہے
حکایت نمبر:333         سعیدوشقی کی پہچان کا انوکھاطریقہ
    حضرتِ سیِّدُنا عبید اللہ اَحلافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے منقول ہے: بنی اسرائیل میں جب کوئی قاضی (یعنی جج)مرجاتا تو وہ اُسے بڑے کمرے میں چالیس سال تک رکھتے ۔ اس دوران اگر اس کا جسم گل سڑ جا تاتو وہ سمجھتے کہ اس نے ضرور کسی فیصلے میں ناانصافی اور ظلم وستم سے کام لیا ہے اسی لئے اس کا جسم خراب ہوگیا ۔ جب ایک عادل قاضی کا انتقال ہو ا توحسب ِطریقہ انہوں نے میت کو ایک کمرے میں رکھ دیا۔ کچھ عرصہ بعد اس کمرے کی دیکھ بھال پر مامور نگران جب کمرے میں آیا تو خادم کمرے کی صفائی کر رہا تھا کہ اچانک اس کے جھاڑو کا ایک تنکا میت کے کان میں لگا ، کان سے پیپ اور خون بہنے لگا ۔جب لوگوں کو یہ بات بتائی گئی تو وہ بڑے پریشان ہوئے کیونکہ وہ قاضی بظاہر بہت عادل وصالح تھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس دور کے نبی علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ'' میرا یہ بندہ واقعی عدل وانصاف پسند تھا ، لیکن ایک مرتبہ اس کے پاس دو شخص اپنا فیصلہ کروانے آئے تو ایک شخص کی بات اس نے زیادہ توجہ سے سنی اور دوسرے کی طر ف کچھ کم تو جہ دی اسی لئے ہم نے اسے یہ سزا دی ہے۔''

    اے ہمارے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! ہم پر رحم وکرم فرما، تیرا عذاب سہنے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ ہمارے بدن جہنم کی
Flag Counter