ہیں۔'' سردار نے کہا : ''اے عظیم بادشاہ! دنیوی مال ومتاع ، حکومت وسلطنت کی وجہ سے ،اوراسی دنیوی دولت کے حصول کی خاطر وہ آپ کے دشمن ہو گئے ہیں ۔ اور میرے پاس ایسی کو ئی چیزنہیں جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے دشمنی کریں ۔ نہ لوگو ں سے مجھے واسطہ پڑتاہے اور نہ ہی وہ میرے دشمن بنتے ہیں۔ مجھے میری یہی زندگی پسند ہے۔''
سمجھ دار ومخلص سردارکی یہ باتیں سن کر عظیم بادشاہ حضرتِ سیِّدُنا ذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃُ ربِّ الکَوْنَیْن وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اعمالِ صالحہ کی تو فیق عطا فرمائے ،دنیوی غموں اور پریشانیوں سے نجات اور فکرِ آخرت عطا فرمائے۔
( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت میں ہمارے لئے عبرت کے بے شمار مدنی پھول ہیں ، انسان کو گر دو پیش کے ماحول سے عبرت حاصل کرتے رہنا چاہے، سمجھدار وہی ہے جو موت سے پہلے اُس کی تیاری کرلے ، دنیوی زندگی بے حد مختصر ہے۔ ہر سانس موت کو ہم سے قریب کرتا جارہا ہے ، جیسے ہی سانس کی مالا ٹوٹی ہمارا سلسلۂ عمل منقطع ہوجائے گا ،پھر حسرت وافسوس کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا ، اتنی بھی مہلت نہ دی جائے گی کہ ایک مرتبہ''سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ '' کہہ کر اپنی نیکیوں میں اضافہ کرلیں۔ بس پھر ہم ہوں گے اور ہمارے اعمال ۔ ہر ذی شعور پر یہ بات روزِ روشن کی طر ف عیاں ہے کہ وقت کا ضیاع باعث ِ ندامت ہے، سمجھ دار لوگ کبھی بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں موت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
؎ کچھ نیکیاں کما لے جلد آخرت بنا لے کوئی نہیں بھر وسہ اے بھائی زندگی کا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فکرِ آخرت کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ''دعوتِ اسلامی'' کے مدنی ماحول سے وابستگی بھی ہے۔ اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے اجتماع میں پابندیئ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے۔ سنتوں کی تربیت کے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر،گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں،آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوتا دیکھیں گے۔ )
؎ اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو !
( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)