Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
184 - 412
 سردار بولا:'' یہ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے حکومت وطا قت عطا فرمائی ، لوگوں پر اسے حاکم بنایا لیکن اس نے مخلوقِ خدا پر ظلم کیا اور بلاوجہ انہیں تنگ کیا۔ جب اس کی سرکشی بڑھی تو موت کے ذریعے اس کی گرفت ہوئی پھر یہ پھینکے ہوئے بے جان پتھر کی طر ح بے بس ہوگیا ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے تمام کاموں سے واقف ہے، اب اس کے ہر عمل کا بدلہ قیامت کے دن دیا جائے گا ۔''
؎ جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے		مگر تجھ  کو اندھا  کیا  رنگ و بُونے

کبھی  غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے 		  جو آباد تھے وہ مکاں اب ہیں سُونے

جگہ  جی  لگانے  کی  دُنیا  نہیں  ہے		یہ عبرت کی جا ہے  تماشہ نہیں ہے

ملے  خاک  میں  اہلِ  شاں  کیسے  کیسے	   	مکیں  ہو گئے  لا مکاں  کیسے  کیسے

ہوئے   نامور   بے  نشان  کیسے  کیسے		   زمین  کھا گئی  نوجوان  کیسے  کیسے

جگہ   جی  لگانے  کی  دنیا  نہیں  ہے		یہ عبرت کی  جا ہے تماشا نہیں ہے
     سردار نے ایک اور کھوپڑی اٹھائی اور کہا :'' اے عظیم بادشاہ!کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کس کی کھوپڑی ہے ؟'' حضرتِ سیِّدُناذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃ ربِّ الکَوْنَیْن نے کہا :'' بتاؤ! یہ کون ہے ؟'' کہا:'' یہ بھی ایک بادشاہ تھا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے حکومت وبادشاہت عطا فرمائی اس نے جب دیکھا کہ مجھ سے پہلے جن بادشاہوں نے ظلم وستم سے کام لیا اور سر کشی اختیار کی وہ ذلیل وخوار ہوئے ، تو اِس نے ان سے عبرت حاصل کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عاجزی وانکساری اختیار کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرا، اپنے ملک میں عدل وانصاف قائم کیا اور شریعت کی پابندی کرتے ہوئے اس دنیائے ناپائیدار سے رخصت ہوگیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ وہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّین بر وزِ قیامت اسے اس کے اعمال کا بدلہ عطا فرمائے گا ۔ پھر سردار نے حضرتِ سیِّدُنا ذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃ ربِّ الکَوْنَیْن کے سرکی طرف اشارہ کرتے ہو ئے کہا: '' یہ بھی ان دونوں (کھوپڑیوں )کی طرح ہے۔ اے ہمارے عظیم بادشاہ! غور فرمالیں کہ آپ کا عمل اپنی رعایا کے ساتھ کیسا ہے ؟''

؎ قبر میں میت اُترنی ہے ضرور             جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضرور

     آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جب اس سردار کی فکر ِ آخرت سے مَمْلُو(یعنی بھری ہوئی) حکیمانہ گفتگو سنی تو کہا:''کیا تم میرے ساتھ رہنا پسند کر و گے ، میں تمہیں اپنا وزیر بناؤں گا ، میرے تمام معاملات میں تم میرے ساتھ رہوگے ، جو مال ودولت میرے پاس ہے اس میں تم میرے برابر کے شریک رہوگے۔'' سردار نے کہا :'' اے ہمارے عظیم بادشاہ! آپ اپنی جگہ ٹھیک ہیں اورمیں اپنی جگہ۔ ہم دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' آخر اتنے بڑے عہدے سے تم اِعراض کیوں کررہے ہو ؟'' سردار نے کہا : ''اس لئے کہ تمام لوگ آپ کے دشمن اور میرے دوست ہیں۔''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : '' لوگ میرے دشمن کیوں
Flag Counter