Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
183 - 412
حکایت نمبر:331              بادشاہوں کی کھوپڑیاں
    حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عبدا للہ خُزَاعِی رحمۃ  اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے: ایک مرتبہ عظیم سلطنت کے عظیم بادشاہ حضرتِ سیِّدُناذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃُ ربِّ الکَوْنَیْن ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جن کے پاس دنیوی سازو سامان وغیرہ کچھ بھی نہ تھا۔ انہوں نے ایک جگہ بہت سی قبر یں کھودی ہوئی تھیں، صبح سویرے ان قبروں کے پاس جاتے، انہیں صاف کرتے اور ان کے قریب ہی نماز پڑھتے۔ یہ ان کا روز کا معمول تھا۔ان کی غذ ا درختوں کے پتے اور گھاس تھی۔ جنگل میں ان کے لئے گھاس اور سبزہ وافر مقدار میں موجود تھا وہ اسے کھا کر اور تالابوں کا پانی پی کر گزارہ کرتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے۔حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرْنَیْن علیہ رحمۃ ربِّ الکَوْنَیْن نے ان کے سردار کو پیغام بھیجا کہ ہم سے آکر ملو۔قاصد نے بادشاہ کا پیغام دیا تو سردار نے کہا: ''ہمیں ان سے ملنے کی کوئی حاجت نہیں۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کویہ جواب ملا توخود سردار کے پا س گئے اور کہا:'' میں نے تمہاری طر ف پیغام بھیجا کہ ہم سے آکر ملو لیکن تم نے انکار کردیا تو میں خود ہی تمہارے پاس چلا آیا۔''

    سردار نے کہا:'' اگر مجھے آپ سے کوئی حاجت ہوتی تو میں ضرور آپ کے پاس آتا، نہ مجھے آپ سے کوئی حاجت تھی نہ میں آیا ۔'' حضرتِ سیِّدُناذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃ ربِّ الکَوْنَیْن نے کہا:'' کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں ایسی خستہ حالت میں دیکھ رہاہوں کہ کسی 

قوم کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا؟'' سردار نے کہا :'' آپ نے ہمیں کس حالت میں دیکھا۔'' کہا :'' تمہارے پاس دنیوی ساز وسامان میں سے کچھ بھی نہیں، تم لوگ سونا وچاندی حاصل کر کے اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے ؟'' سردار نے کہا: ''ہمیں دنیوی مال ودولت سے نفرت ہے کیونکہ جب بھی کسی شخص کو یہ چیزیں ملیں اس کے نفس نے لالچ کیا اور ان سے بھی اچھی چیزوں کا مطالبہ شروع کردیا ۔''حضرتِ سیِّدُناذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃ ربِّ الکَوْنَیْن نے کہا:'' میں نے دیکھا کہ تم لوگو ں نے قبریں بنا رکھی ہیں، روزانہ وہاں جھاڑو دے کر نماز پڑھتے ہو ، تمہارے اس عمل کی کیا وجہ ہے؟'' کہا:'' ان قبروں کودیکھ کرہم عبرت حاصل کرتے ہیں ، انہیں دیکھ کر ہماری لمبی لمبی امید یں ختم ہوجاتی ہیں اور یہ ہمیں سامانِ عبرت مہیا کرتی ہیں ۔''

    حضرتِ سیِّدُنا ذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃ ربِّ الکَوْنَیْن نے کہا:'' کیا وجہ ہے کہ تم لوگ گھاس اورپَتّے بطورِ غذا استعمال کرتے ہو؟تم جانور کیوں نہیں پالتے کہ ان کا گو شت کھاؤ، دودھ پیؤاور دیگر فوائد حاصل کرو ؟'' سردارنے کہا:''ہم وہ نہیں کہ ہمارے پیٹ ان کی قبر بنیں، ہم نے زمین پر گھاس اور سبزہ دیکھا تو اسی کو اپنی غذا بنالیا ۔ ابن آدم کو جینے کے لئے اس قدر غذا کافی ہے ، لذیذ وعمدہ کھانوں کا مزہ صرف زبان کی حد تک ہوتا ہے جیسے ہی غذا حلق سے نیچے جاتی ہے تمام مزہ ختم ہوجاتا ہے ۔''پھر سردار نے قبر سے ایک بوسیدہ کھوپڑی نکالی اور کہا :'' اے عظیم بادشاہ! کیاآپ جانتے ہیں کہ یہ کون ہے ؟''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' نہیں۔''
Flag Counter