ترجمۂ کنزالایمان:اے میرے رب میں اس کھانے کاجوتومیرے لئے اتارے محتاج ہوں۔(پ20،القصص:24)
حضرتِ سیِّدُناشُعَیْب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام نے فرمایا:'' وہ نوجوان ضرور بھوکا ہوگا ، تم میں سے کوئی ایک جائے اور اس نوجوان سے جاکر کہے:'' بے شک میرا والد آپ کو بلاتا ہے تا کہ جو بھلائی آپ نے ہمارے ساتھ کی اور ہمارے جانوروں کو پانی پلایا آپ کو اس کا بدلہ عطا فرمائے ۔'' جب صاحبزادی نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام کو اپنے والد کا پیغام دیا تو آپ علیہ السلام زار وقطار رونے لگے ، آپ علیہ السلام اس صحرائی علاقے میں اجنبی ومسافر تھے ، کئی دنوں سے کھانا نہ کھایا تھا ، آپ علیہ السلام ان کے پیچھے پیچھے ان کے گھر کی جانب چل دئیے ۔ تیز ہواکی وجہ سے ان کے کپڑے اڑنے لگے توآپ علیہ السلام نے فرمایا: '' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تو میرے پیچھے چل ۔'' جب آپ علیہ السلام حضرتِ سیِّدُنا شُعَیْب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام کے پاس پہنچے توانہوں نے کھانا پیش کرتے ہوئے فرمایا:'' اے نوجوان ! کھانا کھالیجئے۔'' حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃو السلام نے فرمایا:'' میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتاہوں۔'' پوچھا:'' آپ کھانے سے کیوں انکار کررہے ہیں ؟'' فرمایا: '' ہمارا تعلق ایسے خاندان سے ہے اگر ہماری لئے ساری زمین کو سونے سے بھر دیا جائے تو پھر بھی ہم اپنا دِین نہیں بیچیں گے۔'' حضرتِ سیِّدُنا شُعَیْب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے فرمایا:'' خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! ایسا ہر گز نہیں کہ ہم آپ کی نیکی خرید رہے ہیں، بلکہ ہم نے تو بطور ضیافت یہ کھانا پیش کیا ہے اور مہمانوں کو کھانا کھلانا ہمارے آباء واجداد کا طریقہ رہا ہے ، آپ بلا جھجک کھاناتناول فرمائیں۔'' پھر آپ علیہ السلام نے کھانا تناول فرمایا۔
اے خلیفہ سلیمان بن عبد المَلِک! اگر آپ کی یہ دنیا میر ی نیکی کی دعوت کا بدلہ ہے تو حالتِ اضطرار میں مردارکا گوشت کھا لینا مجھے ان دیناروں کے لینے سے زیادہ پسند ہے ۔'' خلیفہ اس بزرگ کی شانِ بے نیازی دیکھ کر بہت متعجب ہوا ۔زُہْرِی نے کہا :'' ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم میرے پڑوسی ہیں تیس سال کا طویل عرصہ گزرگیا لیکن میں ان سے کلام کرنے کاشرف حاصل نہ کر سکا۔'' حضرتِ سیِّدُنا ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے فرمایا :'' تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو بھول گیا تو نے مجھے بھی بھلادیا ۔اگر تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت میں کامل ہوتا تو مجھ سے ضرور محبت کرتا۔'' زُہْرِی نے کہا :'' کیا آپ مجھے برا بھلا کہہ رہے ہیں؟''خلیفہ سلیمان نے کہا:''اے زُہْرِی !انہوں نے تجھے برا بھلا نہیں کہا بلکہ تو نے خود اپنے آپ کو برا بھلا کہاہے ۔ کیا تو پڑوسی کے حقوق سے آگاہ نہ تھا؟'' پھر حضرتِ سیِّدُنا ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الناصر نے فرمایا:'' بنی اسرائیل اس وقت تک سیدھی راہ پرگامزن رہے جب تک امراء وسلاطین، علماء کی بارگاہ میں حاضری دیتے رہے ۔ وہ علماءِ رَبَّا نِیِّیْن اپنے دِین کی وجہ سے دربارِ سلاطین سے دور بھاگتے تھے۔ پھر بھی حکمران وامراء علماء کی بارگاہ میں حاضر ہوتے۔ جب ذلیل لوگوں نے علماء کرام کی عزت وتوقیر دیکھی تو انہوں نے بھی علم