حاصل کیا پھر دین کو لے کر بادشاہوں کے درباروں میں جانے لگے اس طرح ان امراء وسلاطین نے علماء رَبَّا نِیِّیْن کو چھوڑ دیاپھر وہ قوم گناہوں پر جمع ہوگئی تو ان کی عزت جاتی رہی اور تنگدستی ومفلسی ان کا مقدر بن گئی ۔اگر علماء اپنے دین کی حفاظت کرتے اور لالچ کرتے ہوئے اسے بادشاہوں کے دربار میں نہ لے جاتے تو سلاطین وامراء سر کش وباغی نہ ہوتے ۔''
زُہْرِی نے کہا :'' اے ابو حَازِم! ایسا لگتا ہے کہ تم یہ ساری باتیں مجھے سنانے کے لئے کہہ رہے ہو اور مجھے طعنہ دے رہے ہو۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''میں ہرگز تمہاری بے عزتی نہیں کررہا لیکن حقیقت وہی ہے جو تم نے سنی۔'' اتنا کہہ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دربار سے واپس چلے آئے۔
راوی کا بیان ہے کہ جب ہِشَام بن عبد المَلِک مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً آیا تو اس نے حضرتِ سیِّدُنا ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الناصر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:'' مجھے کچھ نصیحت کیجئے ۔'' فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر ، دنیا سے بے رغبتی اختیار کر، بے شک اس کی حلال اشیاء کا حساب اور حرام پر عذاب ہوگا۔''ہِشَام نے کہا:'' اے ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الناصر! آپ نے مختصر مگر بہت جامع نصیحت کی۔'' اچھا یہ بتائیے کہ آپ کا سر مایہ کیا ہے؟'' فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ پر پختہ یقین رکھنا اور اس چیز سے ناامید رہنا جو لوگوں کے پاس ہے ۔''کہا :'' آپ اپنی کوئی حاجت خلیفہ سے کہنا چاہیں تو کہیں۔'' فرمایا:'' افسوس صد افسوس ! سنو! میں اپنی حاجتیں اسی پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں جس کے علاوہ کو ئی اور حاجتیں پوری نہیں کرتا۔ پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے مجھے جو عطا ہوتا ہے اسی پر قناعت کرتا ہو۔ اور جو چیز مجھ سے روک لی جاتی ہے اس پر صبر و شکر کرتا ہوں ۔میں نے کسب اورمال و دولت کے معاملے میں غور کیا تو میرے سامنے دو باتیں واضح ہوئیں ۔
پہلی یہ کہ جو چیز میرے مقدر میں ہے وہ ضرور بالضرور مجھے مل کر رہے گی اور اپنے وقت پر ہی ملے گی وقت سے قبل ہر گز نہیں مل سکتی چاہے میں ایڑی چوٹی کازور لگا لوں۔ اور جو چیز میرے علاوہ کسی اور کے مقدر میں ہے ، وہ مجھے کبھی بھی نہیں مل سکتی ۔ جس طرح مجھے کسی اور کا رزق نہیں مل سکتا اسی طرح کسی اور کو بھی میرے حصے کا رزق ہر گز ہرگز نہیں مل سکتا ، میں خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت وپریشانی میں کیوں ڈالوں۔ وہ خالقِ کائنات عَزَّوَجَلَّ سب کو رزق دینے والا ہے ،مجھے اسی کی ذات کافی ہے۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
( میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عظیم وکامیاب لوگ کبھی بھی اپنے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔ دنیوی مال ودولت کی خاطر ہرگز اپنا سر مایۂ ایمان وعلم داؤ پر نہیں لگاتے۔ بھوک پیاس، تنگدستی اورلوگو ں کی طرف سے کی جانے والی ظلم وزیادتی سب برداشت کرلیتے ہیں لیکن کبھی بھی حالات سے مجبور ہوکر دنیا کی حقیر دولت کے بدلے اپنے علم وعمل کا سودا نہیں کرتے۔ ایسے باہمت بامُرَوَّت اور خوددار لوگ ہی در حقیقت لوگوں کے سالار و رہنما ہوئے ہیں۔)
؎ شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا پُردم ہے اگر تُو تو نہیں خطرۂ اُفتاد