ابو حَازِم! کیا ہماری اصلاح کی کوئی صورت ہے ؟'' فرمایا :'' ہاں ! تم لوگ تکلُّفات اور ریا کاری کو چھوڑ کر مروت واخلاص کو اپنالو۔'' خلیفہ نے کہا: '' اس کی کیا صورت ہے ؟'' فرمایا: '' جن سے لینے کا حق ہے ان سے لو او رمستحقین کو ان کا حق دو۔''
خلیفہ نے کہا:''اے محترم !آپ ہمارے ہاں قیام فرمائیں تاکہ ہم آپ سے مستفیض ہوں۔'' آپ نے فرمایا:'' میں اس بات سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں ۔'' خلیفہ نے کہا:'' آپ ہم سے دور کیوں رہنا چاہتے ہیں؟'' فر مایا:'' اگر میں تمہارے ساتھ رہوں تو اندیشہ ہے کہ کسی معاملے میں تمہاری طر ف مائل ہوجاؤں، شاہی عیش وعشرت سے کچھ فائدہ اٹھا لوں اور اس طرح اپنی دنیا وآخرت بر باد کر بیٹھوں لہٰذا دُوری ہی میں عافیت ہے۔'' خلیفہ نے کہا: ''مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔'' فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ سے خوف کر اورجس جگہ جانے سے اس نے روکاہے وہاں ہر گز نہ جا۔ اورایسی جگہ سے ہر گز غیر حاضر نہ رہ جہاں حاضر رہنے کا اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے تجھے حکم دیا ہے۔'' خلیفہ نے کہا:'' اے ابو حَازِم! ہمارے لئے دعا کیجئے۔'' فرمایا: ''ہاں! میں دعا کرتا ہوں، ''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اگر سلیمان تیرا پسندیدہ بندہ ہے تو اس کے لئے خیر کی راہ آسان فرمادے اور اگر یہ تیرے دشمنوں میں سے ہے تو اسے پیشانی سے پکڑکر خیر کی راہ پر ڈال دے۔''
جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دعا سے فارغ ہوئے تو خلیفہ نے ایک ہزار دینار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے عرض کی: '' حضور! یہ حقیر سا نذرانہ قبول فرمائیں۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :'' مجھے ان کی کوئی حاجت نہیں ، میرے علاوہ اس مال کے اور بھی بہت سے حق دارہوں گے۔ میں ڈرتا ہوں کہ یہ مال میری اس نیکی کی دعوت کا بدلہ نہ ہوجائے جو میں نے تجھے دی۔ میں نے یہ تمام باتیں رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے کیں اور اسی سے اجر کا طلبگار ہوں، دنیا والوں سے ہر گز بدلہ نہیں چاہتا۔ جیساکہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام جب فرعون کے ملک سے مدین کی طر ف تشریف لے گئے تو ایک کنوئیں کے قریب بیٹھ گئے وہاں دو لڑکیاں اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لئے کھڑی تھیں ، آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا:'' کیا کوئی مرد نہیں ہے کہ تم پانی پلا رہی ہو ؟'' کہا:'' نہیں۔'' یہ سن کر آپ علیہ السلام نے انہیں پانی بھر کر دیا اور پھر ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ کر بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح عرض گزار ہو ئے : ''