Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
175 - 412
کیوں ناپسند کرتے ہیں؟'' فرمایا :'' اس لئے کہ تم لوگو ں نے اپنی آخرت برباد کرڈالی ہے اور دنیا میں خوب عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے ہو ، اب تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ عیش وعشرت کے گھر کو چھوڑ کر عذاب والی جگہ جائیں۔''خلیفہ نے کہا :'' آپ نے حق فرمایا۔'' اچھا یہ بتائیے کہ'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری کی کیا کیفیت ہوگی ؟'' فرمایا : ''نیک لوگ تو اس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں ایسے جائیں گے جیسے بر سوں کا بچھڑا ہوا اپنے اہل وعیال کی طرف خوشی خوشی جاتا ہے۔ جبکہ گناہ گارو نافرمان اس طر ح ہوں گے جیسے بھاگے ہوئے غلام کو واپس اس کے مالک کے پاس لایا جارہا ہو۔'' 

    یہ سن کر خلیفہ سلیمان نے روتے ہوئے کہا :'' اے کاش! مجھے معلوم ہوجاتا کہ ہمارے لئے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ کے ہاں کیا کچھ ہے؟'' فرمایا:'' اپنے آپ کو کتاب اللہ پر پیش کرو، تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارے لئے کیا کچھ ہے۔ ''خلیفہ نے کہا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پاکیزہ کتاب میں کس مقام پر یہ باتیں تلاش کروں ؟ ' ' فرمایا:'' دیکھو! اللہ عَزَّوَجَلَّ نیکوں اور بدوں کے اُخروی مقامات کا واضح بیان فرمارہا ہے:
  اِنَّ  الْاَبْرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۚ13﴾   وَ اِنَّ  الْفُجَّارَ لَفِیۡ جَحِیۡمٍ ﴿ۚ14﴾
ترجمۂ کنزالایمان :بے شک نِکوکارضرورچین میں ہیں اوربے شک بدکارضروردوزخ میں ہیں۔  (پ30،الانفطار:13۔14)

    خلیفہ نے پوچھا :'' اے ابو حَازِم ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کہاں ہے ؟'' فرمایا: اس کی رحمت محسنین کے قریب ہے ۔ ''خلیفہ نے کہا:'' لوگو ں میں سب سے زیادہ سمجھ دار کون ہے ؟''فرمایا:''جس نے علم وحکمت کی باتیں سیکھیں اوردوسروں کوسکھائیں۔'' خلیفہ نے پوچھا :'' لوگوں میں بے وقوف ترین شخص کو ن ہے ؟ ''فرمایا:'' جو ظالم کی پیروی میں لگا ،ظالم کی ہاں میں ہاں ملائی او راس کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت داؤ پر لگادی۔'' خلیفہ نے کہا:اچھا یہ بتائیے کہ مقبول ترین دعا کون سی ہے ؟'' فرمایا:'' مُتَوَاضِعِیْن(یعنی عاجز ی کرنے والوں) کی دعا۔'' خلیفہ نے کہا:'' اے ابو حَازِم! سب سے بہترین صدقہ کیا ہے ؟ ''فرمایا:'' تنگدست ومحتاج کی مدد کرنا۔'' خلیفہ نے کہا: '' حضور !یہ بتائیے کہ جس حالت میں ہم ہیں اس کے بار ے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟'' فرمایا:'' اس معاملے میں مجھے معافی دو۔'' 

    سلیمان نے کہا:'' اچھا! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ۔''فرمایا :'' بے شک حکمرانوں نے ظلم وزیادتی کر کے مسلمانوں کی رائے کے بغیر من مانی کرتے ہوئے خلافت حاصل کی ، بے وفادنیا کے حصول کے لئے بے گناہوں کا بے دریغ خون بہایا پھر کفِ افسوس ملتے ہوئے حکومت ومملکت کو چھوڑ کر آخرت کی طرف کوچ کر گئے ۔اے کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ ان سے وہاں کیا کیا پوچھا گیا اور انہوں نے کیا جواب دیا؟ اب وہ اپنی کرنی کا پھل بھگت رہے ہوں گے ۔'' یہ سن کر کسی خوشامدی درباری نے کہا :'' اے شیخ! یہ آپ نے بہت بری بات کی۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:'' تو نے جھوٹ کہا، میں نے وہی کیا جو مجھ پر لازم تھا ، بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے علماء کرام سے عہد لیا ہے کہ وہ لوگو ں کے سامنے دین ظاہر کریں گے اور کچھ بھی نہیں چھپائیں گے۔'' خلیفہ سلیمان نے کہا:'' اے
Flag Counter