Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
174 - 412
بھی جامِ شہادت نوش کر گیا اور اس کی روح بھی جنت کے باغات کی طر ف پرواز کر گئی ۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں فتح عطا فرمائی، دشمن پیٹھ پھیر کر خائب وخاسر لوٹا ۔ہم نے بہت سوں کو واصلِ جہنم کیا۔ بہت سے دشمن قید ہو گئے۔ پھر ہم نے مجاہدین کی مُبَارَک لاشیں سپر دِخاک کیں۔ بوڑھے مجاہد کے لئے بھی ایک قبر کھودی گئی جب اسے دفنا کر ہم واپس ہونے لگے تو زمین ہلنے لگی اور اس بزرگ مجاہد کی لاش زمین سے باہر آگئی ۔ ہم یہ سمجھے کہ شاید زلزلے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ لہٰذا ہم نے ایک اور قبر کھودی اور اسے دفن کردیا۔ ابھی مٹی برابر ہی کی تھی کہ دوبارہ زمین ہلنے لگی اور ایک پُر ہول آواز سنائی دی۔ز مین نے پہلے کی طر ح اسے پھر باہر نکال دیا۔ ہم نے تیسری قبر کھود کر اسے دفنا یا تو یہ دیکھ کر ہماری عقلیں حیران ہو گئیں کہ اس مرتبہ بھی زمین نے اسے باہر نکال دیا ۔ پھر ہم نے ہاتفِ غیبی کی آواز سنی: '' اے لوگو! یہ نیک بندہ اپنی زندگی میں ہمیشہ یہ دعا کرتا رہا کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا حشر درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں کرنا اس کی دعا بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں قبول ہوگئی ہے ، لہٰذا اب یہ قبر میں دفن نہیں ہوگا ۔ بلکہ اس کی خواہش کے مطابق اس کے جسمِ نازنین کو جنگلی درندے او ر پرندے کھائیں گے ۔ یہ غیبی آواز سن کر ہم اسے وہیں چھوڑکر واپس لوٹ آگئے ۔''

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر326:                 عالِمِ ربَّانی
    حضرتِ سیِّدُنا عبدالجبَّار بن عبدالعزیز بن ابوحَازِم علیہم الرحمۃ ا پنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ'' ایک مرتبہ خلیفہ سلیمان بن عبد المَلِک مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْماً میں تین دن ٹھہرا اور لوگو ں سے کہا:'' کیا یہاں کوئی ایسا شخص ہے جس نے صحابۂ کرام علیہم الرضوان کی زیارت کی ہو ، ہم اس سے حدیث سننا چاہتے ہیں ؟''اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک جلیل القدر تابعی بزرگ حضرت سیِّدُنا ابوحَازِم علیہ رحمۃ اللہ الناصر رہتے ہیں۔ چنانچہ، انہیں بلایا گیا ،جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے تو خلیفہ نے کہا: ''اے ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الناصر! آخر اتنی بے وفائی کیوں ؟'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''آپ نے مجھ میں کون سی بے وفائی دیکھی ہے ؟'' 

    خلیفہ نے کہا: ''مدینۂ منورہ کے تمامِ علماء ومُعَزَّز ین میرے پاس آئے لیکن آپ نہیں آئے؟'' فرمایا: '' میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ ایسی بات کہیں جو سرے سے ہی نہ ہو، میرے اور آپ کے درمیان پہلے واقفیت ہی نہ تھی کہ جس کی وجہ سے میں یہاں آتا ، پھر بے وفائی کا الزام کیوں ؟''خلیفہ نے کہا:'' بے شک آپ نے سچ وحق بات کہی: اچھا یہ بتایئے کہ ہم موت کو
Flag Counter