بھی جامِ شہادت نوش کر گیا اور اس کی روح بھی جنت کے باغات کی طر ف پرواز کر گئی ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں فتح عطا فرمائی، دشمن پیٹھ پھیر کر خائب وخاسر لوٹا ۔ہم نے بہت سوں کو واصلِ جہنم کیا۔ بہت سے دشمن قید ہو گئے۔ پھر ہم نے مجاہدین کی مُبَارَک لاشیں سپر دِخاک کیں۔ بوڑھے مجاہد کے لئے بھی ایک قبر کھودی گئی جب اسے دفنا کر ہم واپس ہونے لگے تو زمین ہلنے لگی اور اس بزرگ مجاہد کی لاش زمین سے باہر آگئی ۔ ہم یہ سمجھے کہ شاید زلزلے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ لہٰذا ہم نے ایک اور قبر کھودی اور اسے دفن کردیا۔ ابھی مٹی برابر ہی کی تھی کہ دوبارہ زمین ہلنے لگی اور ایک پُر ہول آواز سنائی دی۔ز مین نے پہلے کی طر ح اسے پھر باہر نکال دیا۔ ہم نے تیسری قبر کھود کر اسے دفنا یا تو یہ دیکھ کر ہماری عقلیں حیران ہو گئیں کہ اس مرتبہ بھی زمین نے اسے باہر نکال دیا ۔ پھر ہم نے ہاتفِ غیبی کی آواز سنی: '' اے لوگو! یہ نیک بندہ اپنی زندگی میں ہمیشہ یہ دعا کرتا رہا کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا حشر درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں کرنا اس کی دعا بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں قبول ہوگئی ہے ، لہٰذا اب یہ قبر میں دفن نہیں ہوگا ۔ بلکہ اس کی خواہش کے مطابق اس کے جسمِ نازنین کو جنگلی درندے او ر پرندے کھائیں گے ۔ یہ غیبی آواز سن کر ہم اسے وہیں چھوڑکر واپس لوٹ آگئے ۔''
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)