Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
167 - 412
خود تمہارے پاس آؤں گا ، تم اپنے دل میں کسی قسم کا خدشہ پیدا نہ ہونے دینا اور نہ ہی غلہ وغیرہ خریدنا جس چیز کی تمہیں ضرورت ہے وہ تمہارے پاس پہنچا دی جائے گی۔'' بادشاہ کا یہ پیغام سن کر میں نے اپنے خادموں کو حکم دیاکہ بہترین قسم کے قالین بچھاؤدو اور ان قالینوں پر بادشاہ اور میرے لئے ایک جیسی نشست گاہ بناؤ ، کل میں خود بادشاہ کے استقبال کے لئے جاؤ ں گا۔'' خادموں نے جتنا ہو سکا خوب سجاوٹ کی دوسرے دن میں بادشاہ کا انتظار کررہا تھا کہ خادموں نے اس کے آنے کی اطلاع دی۔میں ایک اونچی جگہ کھڑا ہو کر بادشاہ کو دیکھنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص دو موٹی چادروں میں ملبوس ننگے پاؤں پیدل ہی ہماری طر ف آرہا تھا اس کے ساتھ دس سپاہی تھے تین اس کے آگے اور ساتھ پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ میں نے جب بادشاہ کو اس حالت میں دیکھا تو وہ مجھے بہت معمولی سا آدمی لگا، میرے دل میں آیا کہ اس کو قتل کر دو ں اور خود اس کی جگہ لے لوں۔ جب وہ قریب آیا تو میں نے ایک بہت بڑا لشکر دیکھا، میں نے پوچھا :''یہ کیا ہے۔'' کہا :'' گھوڑوں کالشکرِ جرار ہے ۔''

     اے خلیفہ ! میں نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر بعد دس ہزار گھڑ سوار اسلحے سے لیس ہمارے قلعے کی طرف آئے اور اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ، پھر فقیر انہ لباس میں ملبوس وہ بادشاہ اندر آیا اور پوچھا:'' وہ شخص کہا ں ہے؟'' ترجمان نے میری طرف اشارہ کیا۔ بادشاہ نے میری طر ف دیکھا تو میں ادب بجالانے کے لئے اس کی طرف دوڑا۔ بادشاہ نے میرا ہاتھ چوم کر اپنے سینے پر رکھ لیا، پھر اپنے پاؤں سے قالین لپیٹا اور خالی زمین پر بیٹھ گیا۔ میں نے ترجمان سے کہا:''سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہم نے یہ تمام چیزیں بادشاہ کے لئے بچھوائیں ہیں، پھر یہ قالین پر کیوں نہیں بیٹھ رہا؟ جب ترجمان نے بادشا ہ سے پوچھا تو اس نے جواب دیا:'' میں بادشاہ ہوں اور ہر بادشاہ پر حق ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت وبزرگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کے سامنے تواضع اختیار کر ے ۔'' 

     بادشاہ کا فی دیر تک زمین کو اپنی اُنگلی سے کُرَیدتا رہا اور کچھ سو چتا رہا ۔ پھر سر اوپر اٹھایا اور کہا:'' تم سے یہ ملک کیوں چِھن گیا؟ تم سے اقتدار کیوں جاتا رہا؟ حالانکہ دوسرے لوگوں کی نسبت تم اپنے نبی سے زیادہ قربت رکھتے ہو۔'' میں نے کہا:'' اے بادشاہ! ایک ایسا شخص آیا جو ہماری نسبت ہمارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا زیادہ قریبی تھا اس نے ہم پر حملہ کیاتو ہمارا اقتدار جاتا رہا اور ہم لا وارث ہوگئے۔ اب میں بھاگ کر تمہارے پاس پناہ لینے آیا ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بعد مجھے تمہارا ہی سہارا ہے۔'' بادشاہ نے کہا:'' تم لوگ شراب کیوں پیتے ہو؟ حالانکہ تمہاری کتاب (یعنی قرآنِ کریم )میں اس کو حرام ٹھہرایا گیا ہے۔'' میں نے کہا: '' یہ کام ہمارے غلاموں ، عجمیوں اور دوسرے لوگوں کا ہے جو ہماری سلطنت میں ہماری رضا مندی کے بغیر گُھس آئے ہیں۔'' بادشاہ نے کہا: ''تم لوگ سونے چاندی اور ریشم سے مزَیَّن سواریوں پر کیوں سوار ہوتے ہو؟ حالانکہ تمہارے مذہب میں یہ چیزیں جائز نہیں۔'' میں نے کہا :'' یہ بھی ہمارے غلاموں اور عجمی لوگو ں کا کیا دَھرا ہے، وہ ہی ایسے ناجائز امور میں مبتلا ہیں۔'' 

با دشاہ نے پھر کہا : '' تم لوگ کہیں سفر پر یا شکار کے لئے جاتے وقت جب کسی وادی سے گزرتے ہو تواس کے رہائشیوں کو کیوں