قصہ ہے ، اسے بلا کر وہ واقعہ سنیں۔'' خلیفہ نے مسیب کو حکم دیا کہ عبید اللہ بن مَرْوَان کو ہمارے سامنے حاضر کیا جائے ۔
حکم کی تعمیل ہوئی ،مضبوط وبھاری زنجیروں میں جکڑے ایک نوجوان کو خلیفہ کے سامنے لایا گیا۔ نوجوان کی گردن میں بہت وزنی طوق تھا اس نے آتے ہی بآ واز بلند'' السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ''کہا۔خلیفہ منصور نے کہا:''اے عبید اللہ ! سلام کا جواب دینا امن وسلامتی دینا ہے اور میرا نفس اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تجھے امن وسلامتی دی جائے۔ تو زنجیروں میں جکڑا ہوا میرے سامنے کھڑا رہ۔ پھر خُدَّام خلیفہ کے لئے تکیہ لائے خلیفہ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور کہا:'' اے عبیداللہ! مجھے پتا چلا ہے کہ تیرے پاس '' نوبہ'' کے بادشاہ کاکوئی عجیب وغریب قصہ ہے ،بتا! وہ کیا ہے ؟'' عبید اللہ بن مَرْوَان نے کہا:'' اے خلیفہ! اس پر ور دگار عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس نے آپ کو مسندِ خلافت پر فائز کیا! لو ہے کی یہ مضبوط وبھاری زنجیریں وضو وطہارت کا پانی لگنے کی وجہ سے زنگ آلود ہو کر بہت زیادہ تکلیف دہ ہوگئی ہیں،ان کے ہوتے ہوئے میں کس طر ح کلام کر سکوں گا ۔'' خلیفہ نے اسے بیڑیوں اور طوق سے آزاد کرادیا۔
عبیداللہ نے کہا:'' ہاں! اے خلیفہ! اب میں آپ کو ''نوبہ '' کے بادشاہ کا واقعہ سناتا ہوں ، سنئے! جب عبداللہ بن علی نے ہم پر حملہ کیا تو اس کا مطلوبِ اوّل میں ہی تھا کیونکہ اپنے والد مَرْوَان بن محمد کے بعد میں ہی ان کا ولئ عہد تھا ۔چنانچہ، میں نے خزانے سے دس ہزار دینار لئے، دس خادموں کو اپنے ساتھ لیا ہر ایک کو ہزار ہزار دینار دے کر علیحدہ علیحدہ سواریوں پر بٹھا یا۔ مزید پانچ خچروں پر قیمتی سامان رکھا پھر ان سب کو لے کر میں سلطنتِ ''نوبہ'' کی طرف بھاگ گیا ۔ تین دن مسلسل سفر جاری رہا بالآخر ''نوبہ '' کے قریب ایک ویران قلعے میں پہنچ کر میں نے خُدَّام کو حکم دیا کہ اسے اچھی طر ح صاف کرو پھر بہترین قالین بچھا دو ۔ کچھ ہی دیر میں بہترین قالین بچھادیئے گئے ۔
میں نے اپنے سب سے زیادہ بااعتماد وعقل مند خادم کو بلاکر کہا : ''تم ''نوبہ'' کے بادشاہ کے پاس جاؤ ، اسے میرا سلام کہنا اور میرے لئے امان طلب کرنا ، پھر کچھ اناج وغیرہ شہر سے خرید لانا۔ '' خادم میرا پیغام لے کر بادشاہ کے پاس چلاگیا ، کافی دیر گزر گئی لیکن وہ واپس نہ آیا ۔ مجھے اس کے بارے میں بد گمانی ہونے لگی ،پھرکچھ دیر بعد وہ آیا تو اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا ۔ اس نے نہایت ادب وتعظیم سے پیش آتے ہوئے ملاقات کی ، پھر میرے سامنے بیٹھ گیا اور کہا:'' ہمارے بادشاہ نے آپ کو سلام کہا ہے ، وہ پوچھتے ہیں کہ تمہیں ہمارے ملک آنے کے لئے کس چیز نے مجبور کیا۔ کیا ہم سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہو یا ہمارے مذہب کی محبت تمہیں یہاں کھینچ لائی یاتم پناہ چاہتے ہو؟'' میں نے اس قاصد سے کہا:'' اپنے بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں تم سے جنگ کروں، باقی رہا دین و مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ تو میں کبھی بھی اپنا دین چھوڑ کر تمہارا دین قبول نہ کروں گا ،ہاں میں پناہ کا طلب گارہوں، اگر مجھے پناہ مل جائے تو احسان ہوگا۔''
قاصد یہ پیغام لے کر بادشاہ کے پا س گیا پھر واپس آکر کہا:''ہمارے بادشاہ نے آپ کو سلام کہا ہے ا ور کہا ہے کہ ''کل میں