پریشان کرتے ہو اور ان پر بے جاٹیکس کیوں لگاتے ہو؟جب تک ان کی فصلوں کو اپنی سواریوں سے روند نہ ڈالوتمہیں سکون نہیں ملتا، نصف درہم کے لئے بھی خوب نقصان کرتے اور فساد بر پا کرتے ہو ، آخر ایسا کیوں ؟ حالانکہ تمہارے دِین میں ایسا فساد حرام کیا گیا ہے۔'' میں نے وہی جواب دیا کہ یہ سب کام ہمارے خُدَّام اور غلام وغیرہ کرتے ہیں۔''
بادشاہ نے کہا:'' نہیں ، بلکہ تم لوگوں نے اُن چیزوں کو حلال سمجھ لیا ہے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حرام فرمایاتھا ، جن باتوں سے اس نے روکا تم نے وہی اختیار کرلیں تواللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم سے عزت چھین کر ذلت کالباس پہنادیا۔خدائے بزرگ وبَر تر کا انتقام ابھی تمہارے متعلق پورا نہیں ہوا ۔مجھے ڈر ہے کہ اگر تم میرے ملک میں رہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آیا توکہیں وہ تمہارے ساتھ مجھے بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ۔ بے شک عذاب کہہ کر نہیں آتا ، جب وہ آئے گا تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ، سنو! مہمان نوازی کا حق تین دن ہی ہوتا ہے تین دن بعد تم یہاں سے چلے جانا تمہیں جو ضرورت ہے وہ لے لو۔ اگر تین دن کے بعد یہاں رُکو گے تو تمہارا سارا سامان چھین لوں گا ۔''اتنا کہہ کر بادشاہ وہاں سے چلا گیا۔ میں تین دن وہاں ٹھہر کر واپس آیا تو مجھے قید کر کے آپ کے پاس بھیج دیا گیا۔ اب میں آپ کے سامنے موجود ہوں ، زندگی سے زیادہ اب مجھے موت پیاری ہے، کاش! مجھے موت آجائے ۔عبید اللہ بن مَرْوَان کی یہ عبرت ناک روداد سن کرخلیفہ منصور کو اس پر ترس آنے لگاجب اسے آزاد کرنا چاہا تو اسماعیل بن علی نے منع کرتے ہوئے کہا:''اس کی گردن میں بنوامیہ کی بیعت ہے ۔''خلیفہ نے کہا:''پھر تمہاری کیا رائے ہے ؟'' اسماعیل بن علی کہا:'' اسے ہمارے قید خانوں میں ہی رہنے دیں اور جس سزا کا یہ مستحق ہے وہ اس پر جاری کر دیں۔''
راوی کا بیان ہے،'' پھر عبید اللہ بن مَرْوَا ن کو واپس قید خانے میں بھیج دیاگیا،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے معلوم نہیں کہ وہ منصور کی خلافت میں ہی مر گیا یا مہدی نے اسے آزاد کردیا ۔''اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو ظالموں سے محفوظ رکھے اور دنیا و آخرت میں ہمارے ساتھ عَفْو وکرم والا معاملہ فرمائے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)