چار پائی پر اس طر ح کیوں لیٹاہوا ہے ؟۔'' لوگو ں نے کہا :'' یہ شخص موت کا شکار ہو چکا ہے۔'' شہزادے نے پوچھا:'' موت کیا چیز ہے ؟ مجھے اس شخص کے پاس لے چلو۔'' شہزادے کو مردے کے پاس لے جایا گیا توکہا:'' لوگو ! اس سے کہو کہ یہ بیٹھ جائے۔'' لوگو ں نے کہا: ''حضور! اس میں بیٹھنے کی طاقت نہیں۔''شہزادے نے کہا :''اس سے کہو کہ بات کرے۔'' لوگوں نے کہا:'' موت نے اس کی زبان بند کردی ہے، اب یہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا۔'' شہزادے نے پھر پوچھا:'' اب تم اسے کہاں لے جارہے ہو ؟'' لوگوں نےکہا:'' قبر میں دفنانے کے لئے لے جار ہے ہیں۔''شہزادے نے پوچھا:'' اس کے بعد پھر کیا ہوگا؟'' لوگوں نےکہا:'' موت کے بعد''حشر ''ہوگا۔''شہزادے نے پوچھا:'' یہ حشر کیا ہے؟'' لوگوں نے کہا: '' حشر وہ دن ہے کہ اس دن سب لوگ ، خالقِ کائنات عز وجل کے حضور کھڑے ہوں گے ، وہ خالِقِ لَمْ یَزِلْ ہر ایک کو اس کے اچھے برے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس دن ہر شخص سے ذرّے ذرّے کا حساب لیا جائے گا۔'' شہزادے نے کہا :'' کیا اس دنیا کے علاوہ بھی کوئی ایسا جہان ہے جہاں تم دنیا کو چھوڑ کر چلے جاؤ گے ؟'' لوگوں نےکہا :'' ہاں! دنیا میں جو بھی آیا اسے آخر ت کی طر ف ضرور کوچ کرنا ہے۔''
یہ سن کر شہزادہ گھوڑے سے نیچے گر کر تڑ پنے لگا ، وہ روتا جاتا اور اپنے چہرے کو مِٹی سے رگڑتا جاتا ، پھر اس نے روتے ہوئے کہا:''اے لوگو ! مجھے یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ جس طر ح یہ شخص موت کا شکار ہوا ، اسی طرح مجھے بھی اچانک موت آجائے گی اور میں دیکھتا ہی رہ جاؤ ں گا۔ اس خدائے بزرگ وبَر تر کی قسم جو بر وزِ قیامت تمام لوگو ں کو جمع فرماکر جزا وسزا دے گا! میرے اور تمہارے درمیان یہ آخری عہد ہے، آج کے بعد تم مجھ سے کبھی نہ مل سکو گے۔'' لوگو ں نے کہا:'' ہم آپ کو واپس آپ کے والد کے پاس لے جائیں گے ، ان کی اجازت کے بغیرآپ کہیں بھی نہیں جاسکتے ۔''پھر شہزادے کو بادشاہ کے پاس اس حالت میں لے جایا گیا کہ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا،بادشاہ نے شہزادے سے کہا:'' میرے لال! تم اتنے خوف زدہ کیوں ہو اور یہ رونا کس لئے ؟'' شہزادے نے کہا:'' ابا حضور ! میں اس دن کے خوف سے رو رہا ہوں جس دن ہر ایک کو اس کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔'' پھر شہزادے نے اُون کا لباس منگواکر پہنا اور کہا:'' آج رات میں اس محل کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔'' پھر واقعی آدھی رات کو وہ سمجھ دار شہزادہ تا ج وتخت ٹُھکرا کر دَرْویشانہ لباس پہنے آخرت کی تیاری کے لئے جنگل کی طرف جا رہا تھا،جب قصرِ شاہی سے نکلنے لگا تو بارگاہِ خدا وندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح التجا کی:
'' اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے ایسی زندگی مانگتا ہو ں جس میں میری سابقہ زندگی کی آسائشوں میں سے کچھ نہ ہو اور میں پسند کرتا ہوں کہ چاہے دُنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے مگر میں لمحہ بھر کے لئے بھی دنیوی آسائشوں کی طر ف نظر نہ کروں۔'' پھر وہ شہزادہ تمام دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کو خیر باد کہہ کر اُخروی نعمتوں کے حصول کے لئے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔''
حضرت سیِّدُنا بَکْر بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حکایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :'' یہ شہزادہ گناہوں کے خوف