بھی ہو اسے دنیوی مشاغل میں مصروف رکھو تاکہ اسے باہر جانے کا خیال ہی نہ آئے۔
حکم کی تعمیل ہوئی اور شہزادے کو دوبارہ دنیوی عیش وعشرت میں اُلجھا دیا گیا ۔ اسی طر ح ایک سال کا عرصہ گزرگیا۔ایک دن وہ پھر دیوار کی طر ف گیا اور کہا:'' اب تو میں ضرور باہر جاکر دیکھوں گا ، مجھے جلدی سے اس دیوارکے پار لے چلو ۔ جب بادشاہ کو شہزادے کی ضد کا بتایا گیا تو اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اجازت دے دی۔ لوگ شہزادے کو ایک بہترین سواری پر بٹھا کر باہر لے گئے ۔ سواری کو سونے چاندی سے خوب مُزَیَّن کیا گیا،لوگ اس کے ارد گر د ننگے پاؤں چلنے لگے ۔ شہزادہ گرد و پیش کے مناظر دیکھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا یکایک اسے ایک بہت ہی بیمار شخص نظر آیا، بیماری کی وجہ سے وہ انتہائی لاغر و کمزور ہوچکا تھا ،پوچھا:'' اس کو کیا ہوا ؟'' لوگوں نے بتایا کہ یہ بیماری میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ شہزادے نے پھر پوچھا :'' کیا اس کی طرح دوسرے لوگ بھی بیمار ہوتے ہیں؟ کیا تمہیں بھی بیماری لاحق ہونے کا خوف لگا رہتاہے ؟'' لوگو ں نے کہا:'' ہاں ۔'' شہزادے نے پوچھا:'' کیا میں جس سلطنت میں ہوں وہاں بھی یہ بیماری آسکتی ہے؟''کہا:''ہاں! بالکل آسکتی ہے۔''عقل مند شہزادے نے کہا:'' اے لوگو! تمہاری یہ دنیوی عیش وعشرت بد مزہ ہے ۔'' یہ کہہ کر شہزادہ غم والم میں واپس لوٹ آیا۔ جب اس کی یہ حالت بادشاہ کو بتائی گئی تو اس نے کہا:'' شہزادے کو ہر طر ح کا سامانِ لہو ولعب مہیا کرو ، اسے دنیوی آسائشوں میں ایسا مگن کردو کہ اس کے دل سے سب رنج وملال جاتا رہے ۔''
لوگ شہزادے کو دنیوی مشاغل میں اُلجھانے کی انتھک کوشش کرتے رہے۔ اسی طرح ایک سال کاعرصہ گزر گیا۔ شہزادے نے پھر باہر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی ہیرے جواہرات اورسونے چاندی سے مُرَصَّع سواری پر سوار کرکے اسے قلعے سے باہر لے جایا گیا۔ شہزادہ مختلف مناظر دیکھتا ہوا آگے بڑھتا جارہا تھا ۔آگے پیچھے خادموں اور سپاہیوں کا ہجوم تھا ، یکایک ایک بوڑھے پر نظر پڑی ،بڑھا پے نے اس کا برا حال کررکھا تھا، منہ سے رال ٹپک رہی تھی، جسم کا نپ رہاتھا۔ شہزادے نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:'' اسے کیا ہوا ؟'' لوگو ں نے کہا:'' حضور! ایامِ جوانی گزار کر اب یہ پڑھاپے کی زَد میں آچکا ہے۔'' شہزادے نے کہا:'' کیا دیگر لوگ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہوئے ہیں؟ کیا ہر شخص بڑھاپے سے ڈرتا ہے ؟'' لوگو ں نے کہا :'' ہم میں سے ہر شخص بڑھاپے سے ڈرتا ہے۔'' شہزادے نے کہا : تمہاری یہ عیش وعشرت کتنی بد مزہ اور کیسی بھیانک ہے کہ کسی ایک کوبھی اس کے فساد سے چھٹکارانہیں۔''
یہ کہہ کرشہزادہ مغموم وپریشان واپس اپنے قلعے کی طر ف آگیا ۔ بادشاہ کو جب شہزادے کی یہ کیفیت بتائی گئی تو اس نے نے پھر وہی حکم دیا کہ اسے دنیوی آسائشوں میں الجھا دو تاکہ غم وملال اس کے دل سے جاتا رہے۔ ایک سال پھر شہزادے نے قلعے میں گزار دیا،اس کے بے قرار دل میں پھر باہر جانے کی خواہش ابھری ۔چنانچہ، خادموں اور سپاہیوں کے ہجوم میں اسے باہر لے جایا گیا۔ راستے میں کچھ لوگ ایک جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے جارہے تھے، شہزادے نے لوگوں سے پوچھا :''یہ شخص