| عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم) |
ناراض ہوں۔ والدین کی ناراضگی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی ہے۔ والدین سے حسنِ سلوک کی بارہاتا کید کی گئی ہے بلکہ اُن کو ''اُف'' تک کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ جو لوگ والدین کی نافرمانی کرتے ہیں وہ آخرت میں تو سزا کے مستحق ہیں ہی ،لیکن دنیا میں بھی انہیں نشانِ عبرت بنادیا جاتا ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں والدین کی نافرمانی سے محفوظ رکھے اور ان کا مطیع وفرمانبر دار بنائے ۔ ) ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
حکایت نمبر319: عقل مند شہزا د ہ
حضرتِ سیِّدُنا بَکْر بن عبد اللہ مُزَنِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ'' بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ کو کثرتِ مال واولاد اور بہت لمبی عمر عطا کی گئی۔ اس کی اولاد میں یہ عادتِ حسنہ تھی کہ جب بھی ان میں سے کوئی جوان ہوتا اُون کا لباس پہن کر پہاڑوں میں چلا جاتا،دنیوی رونقوں کو خیرباد کہہ کر دُرویشانہ زندگی اختیار کرلیتا، درختوں کے پتے اور جھاڑیاں کھا کر اپنا گزارہ کرتا اور اسی حالت میں اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کو چ کر جاتا۔ سب شہزادوں نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ جب بادشاہ کی عمر بہت زیادہ ہوگئی اور اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو اس نے اپنی قوم کو بُلا کر کہا:'' اے میری قوم ! دیکھو میری عمر اب بہت ہو گئی ہے ، اس عمر میں مجھے بیٹے جیسی نعمت نصیب ہوئی، میں تم لوگو ں سے جتنی محبت کرتا ہوں تم خوب جانتے ہو،مجھے ڈر ہے کہ میرا یہ بیٹا بھی اپنے دوسرے بھائیوں کا راستہ اختیار نہ کرلے ، اگر ایسا ہوا تو ہمارے خاندان میں سے میرے بعد تمہارا کوئی حاکم نہ رہے گا اور پھر تم ہلاکت میں پڑجاؤ گے۔ اگر بہتری چاہتے ہو تو اس شہزادے کو چھوٹی عمر ہی میں سنبھال لو ،اسے دنیوی نعمتوں اور آسائشوں کی طر ف مائل کرو ، اگر ایسا کرو گے تو شاید میرے بعد یہ تمہارا حاکم بن جائے، جتنا ہوسکے اس کا دل دنیا میں لگادو۔''
یہ سن کر لوگوں نے کئی میل لمبا چوڑا ایک خوبصورت قلعہ بنایا اس میں دنیوی آسائش کا تمام سامان شہزادے کو مہیا کیا۔ شہزادے نے کئی سال اس وسیع وعریض قلعے کی چار دیواری میں گزار دیئے یہاں اسے ہر طرح کی سہولت میسر تھی۔ اس کے سامنے کوئی غم وپریشانی کی بات نہ کی جاتی۔ لوگوں کو اس سے دور رکھا جاتا، ہر وقت خُدَّام اس کی خدمت پر مامور رہتے ۔ایک مرتبہ وہ گھوڑے پر سوار ہوکر ایک سمت چل دیا جب آگے دیوار دیکھی توخادموں سے کہا:''میرا گمان ہے کہ اس دیوار کے پیچھے ضرور ایک نیا جہاں ہو گا وہاں ضرور آبادی ہوگی مجھے یہاں سے باہر نکالو تا کہ میری معلومات میں اضافہ ہوسکے اور میں لوگو ں سے ملاقات کرو ں۔'' جب شہزادے کی یہ خواہش بادشاہ کو بتائی گئی تو بادشاہ ڈرگیا کہ باہر جاکر کہیں یہ بھی اپنے بھائیوں کی طر ح دَرویشانہ زندگی اختیار نہ کرلے ۔ا سی خوف کے سب اس نے حکم دیا کہ شہزادے کو ہر دنیوی کھیل کود کا سامان مہیا کر و جس طرح