Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
155 - 412
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اِن نُفُوسِ قُدْسِیَّہ کے صدقے دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے ،ان ساداتِ کرام کا باادب بنائے ،بے ادبوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ان کی غلامی میں استقامت عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے ۔(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)

؎ صحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادم		یہ سب ہے آپ کی نظرِ عنایت یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ علیہ وسلم
حکایت نمبر315:                 شریرجِنّ
    حضرتِ سیِّدُنا عبدُالصَّمَد بن مَعْقَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ'' میں نے حضرتِ سیِّدُنا وَہْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :'' گذشتہ اُمتوں میں ایک شخص تھا ، اس کی بیٹی مرگی کے مرض میں مبتلا ہوگئی۔ بہت علاج کرایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ و ہ جس معالج کے متعلق بھی سنتا، اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس پہنچ جاتا۔ لیکن اس کے علاج سے سب عاجز رہے۔بالآخر اُسے بتایا گیا کہ فلاں شخص اس وقت سب سے زیادہ متقی وپرہیزگار ہے، اگر اس کے پاس جاؤ تو تمہار ی مشکل حل ہو جائے گی۔ چنانچہ، وہ اپنی بیٹی کو لے کر اس کے پاس گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا واسطہ دے کر علاج کا سوال کیا اور بتایا کہ میں زمانے بھر کے طبیبوں اور عا ملوں سے ملا، لیکن کوئی بھی اس بیچاری کا علاج نہ کرسکا۔

    اس نیک شخص نے دکھیارے باپ کی فریاد سنی تو کہا:'' مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر میں نے تمہاری بیٹی کا علاج کردیا تو تم لوگو ں کو بتاؤگے، اس طر ح میری شہرت ہوجائے گی اور لوگ مجھے مصیبت میں مبتلا کر دیں گے۔'' لڑکی کے باپ نے عہد کیا کہ میں ہر گز کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ چنانچہ، وہ نیک شخص علاج کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ در اصل ایک شریر جن نے لڑکی کے جسم میں داخل ہوکر اسے اذیَّت میں مبتلا کر رکھا تھا، نیک شخص نے عمل کیا اور شریر جن کو مخاطب کر کے کہا :'' اس لڑکی کے جسم سے باہر نکل آ۔'' جن نے کہا : '' ہر گز نہیں ! یہ صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اس کے جسم سے نکل کر تیرے جسم میں آجاؤ ں۔'' نیک شخص نے کہا : ''ٹھیک ہے ! تو اسے چھوڑدے اور میرے جسم میں داخل ہوجا۔'' چنانچہ جن لڑکی کوچھوڑ کر نیک شخص کے جسم میں داخل ہو گیا، اس نے دَم کر کے اپنے جسم کا حصار کیا اور تمام مَسام بند کر کے اسے اپنے جسم میں قید کرلیا ، پھر لڑکی کے والد سے کہا:'' اپنی بیٹی کو لے جاؤ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے اب یہ ٹھیک ہوگئی ہے۔'' اس نے کہا:''مجھے ڈر ہے کہ یہ شریر جن دو بارہ میری بیٹی کو تنگ کرنے نہ آجائے۔'' تو نیک آدمی نے کہا:'' جاؤ ! اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! اب کبھی بھی یہ اس کی طر ف نہ آئے گا۔''
Flag Counter