Brailvi Books

عُیونُ الحِکایات (حصہ دوم)
154 - 412
تھا میں نے تمہاری دی ہوئی رقم اپنی زوجہ کو دی تو وہ بہت خوش ہوئی اور کہا :''آؤ! ہم اس شخص کے لئے دعا کریں جس نے ہماری مدد کی ،تم نماز پڑھو اور دعا کرو میں آمین کہوں گی۔'' پس میں نے نماز پڑھ کر دعا کی اور اس نے''آمین'' کہی۔ پھر مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی میری آنکھیں تو کیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں کھل گئیں میں خواب میں اپنے نانا جان،رحمتِ عالَمِیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت سے مشرف ہوا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا :''جنہوں نے تمہارے ساتھ بھلائی کی ہم نے ان کا شکریہ ادا کردیا ہے اب وہ دوبارہ تمہیں کچھ چیزیں بطورِخیر خواہی دیں گے تم قبول کرلینا۔''

    حضرت سیِّدُنااحمد بن خَصِیب علیہ رحمۃ اللہ الحسیب فرماتے ہیں: ''اس وقت میرے پاس جو کچھ بھی مال واسباب تھا سب اس سید زادے کے حضور پیش کرکے خوشی خوشی گھر چلا آیا۔ میں نے اپنی زوجہ کو مشغولِ دعا ومناجات پایا وہ کافی بے چین ومضطرب نظر آ رہی تھی ۔جب اسے میرے گھر آنے کا علم ہوا تو میرے پاس آئی اور خیریت معلوم کی میں نے جانے سے لے کر واپسی تک کا تمام واقعہ کہہ سنایا۔'' اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکریہ ادا کیا اور کہا:'' میں نہ کہتی تھی کہ آپ ان کے ناناجان ،رحمتِ عالمیان ،سرورِ ذیشان، سرکارِ کون ومکان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر بھروسہ رکھیں اور معاملہ ان کے سپرد کردیں ، دیکھیں! انہوں نے کیسا لطف وکرم فرمایا اور کیسے ہماری دستگیری فرمائی، پھر میں نے اپنی زوجہ سے کہا:اچھا! حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صدقے مجھے جو انعام ملا ہے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟''حالانکہ میں نے اس کا حصہ اس کے حوالے کردیا جو اس نے بخوشی قبول کرلیا ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)

    سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیا شان ہے ساداتِ کرام اور ان کے نانا جان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی! اس سخی گھرانے کے ساتھ جو بھی حسنِ سلوک کرتا ہے وہ محروم ومایوس نہیں ہوتا بلکہ اس پر انعام واکرام کی ایسی بارش ہوتی ہے کہ محتاجوں اور غمگینو ں کے دلوں کی مُرجھائی کَلیاں کھِل اٹھتی ہیں ،گردشِ ایام کی زد میں آکر سنسان وویران ہوجانے والے باغات میں بہار آجاتی ہے۔جس نے بھی ان مُبَارَک ہستیوں سے حُسنِ سلوک کیا وہ بے شمار پریشانیوں سے نجات پاکر شاداں وفرحاں ہوگیا۔ اور کیوں نہ ہو کہ کریموں سے تعلق رکھنے والے پر بھی ضرور کرم کیا جاتاہے ۔ساداتِ کرام چمنستانِ کرم کے مہکتے پھول ہیں ان کی خوشبو سے عالَمِ اسلام مہک رہا ہے، انہیں درخشاں ستاروں کی روشنی سے نہ جانے کتنے بھولے بھٹکے مسافروں کو نشانِ منزل ملا۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ،عظیم المرتبت،عظیم البرکت، پروانۂ شمعِ رسالت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن، اہل بیتِ اطہار کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

؎ کیا بات رضا ؔاس چمنستانِ کرم کی		زہراء ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول