دُکھیارا باپ دعائیں دیتا ہوا وہاں سے رخصت ہوگیا ۔شریر جن اس مردِ صالح کے جسم میں قید تھا ، اس نے پورے ہفتے مسلسل روزے رکھے اور راتیں عبادت وریاضت میں گزاریں ،ساتویں دن شریر جن نے اس سے کہا :'' توکھاناوغیرہ کیوں نہیں کھاتاکہ تقویت حاصل ہو؟'' کہا:''جلدی نہ کر!ابھی مجھے کھانے کی حاجت نہیں ۔''جن نے کہا:''پھرمجھے چھوڑدے تاکہ تیرے جسم سے نکل جاؤں۔'' کہا:''ہرگزنہیں !اب تونہیں نکل سکتا۔''پھر نیک بندے نے مزیدایک ہفتہ روزے رکھے اورراتیں عبادت میں گزاریں اور نہ کچھ کھایانہ پیا۔جن نے کہا:توکوئی چیز کھاتا کیوں نہیں؟ کیا تو ا پنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے ؟'' کہا: '' مجھے ابھی کھانے پینے کی حاجت نہیں ۔''
جن نے کہا:'' مجھے چھوڑدو تاکہ تمہارے جسم سے نکل جاؤ ں۔''کہا:'' ہر گز نہیں۔'' جن نے عاجز ہوکر کہا:''خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر تو نے مجھے اپنے جسم سے نہ نکلنے دیا تو بھوک وپیاس کی وجہ سے میں تمہارے جسم میں مرجاؤں گا اور تو بھی ہلاک ہوجائے گا ، خدا را! مجھے چھوڑ دے ۔''نیک شخص نے کہا:'' مجھے خدشہ ہے کہ اگر میں نے تجھے چھوڑ دیا تو تُودوبارہ اس لڑکی کے پاس جاکر اسے تنگ کریگا۔'' جن نے کہا: ''خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب میں کبھی بھی نہ اس لڑکی کے پاس جاؤں گا اور نہ ہی کسی اور انسان کی طر ف ، تو نے میرا جو حشر کیا ہے، اس کی وجہ سے انسان میرے نزدیک سب سے زیادہ خطرناک ہوچکا ہے، اب مجھے انسانوں سے ڈرلگنے لگا ہے ۔''
جب نیک شخص نے جِنّ کی یہ باتیں سنیں تو اسے اپنے جسم سے نکلنے کا راستہ دے دیا ، جن فوراً بھاگ کھڑا ہوا اور پھر کسی انسان کو تنگ نہیں کیا بلکہ جب بھی کسی انسان کو دیکھتاتو ڈر کر بھاگ جاتا ۔
(جنات کے بارے میں مزید معلومات کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے ''مکتبۃ المدینۃ''سے کتاب ''قوم جنات اور امیراہلسنّت''خرید فرماکر مطالعہ فرمائیں ۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ معلومات کا ڈھیروں خزانہ ہاتھ میں آئے گا۔)