پکارا: اے احمد!میں نے آوازپہچان کرکہا:''اے خلیفہ کی والدہ! میں حاضرہوں ۔''پھرآوازآئی: ''ہزاردیناروں کاحساب ،بلکہ سات سو دیناروں کاحساب دو ،اتنا کہہ کرخلیفہ کی والدہ کے رونے کی آواز آنے لگی ،میں نے اپنے دل میں کہا:''اس سیدزادے نے کسی دکان سے کھانے کا سامان اورغلہ وغیرہ خریدا ہوگااورکسی مخبرنے خلیفہ کوخبردی ہوگی کہ مَیں نے اس سیدزادے کی مدد کی ہے،توخلیفہ نے مجھے قتل کرنے کاحکم دیاہوگا،جس کی وجہ سے اس کی والدہ مجھ پرترس کھاتے ہوئے رورہی ہے ،میں انہیں سوچوں میں گُم تھاکہ دوبارہ آوازآئی:اے احمد!ہزاردیناروں کاحساب دو،بلکہ سات سودیناروں کے متعلق مجھے بتاؤ۔
اتناکہہ کروہ پھرزاروقطاررونے لگی ۔اس طرح اس نے کئی مرتبہ کیااوردیناروں کے متعلق باربارپوچھا۔میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا۔جب سید زادے کاذکرآیاتووہ رونے لگی اور کہا:''اے احمد! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اور جو تیرے گھر میں نیک خاتون ہے اسے بہترین جزاء عطا فرمائے ،کیا تو جانتا ہے کہ آج رات میرے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا ہے ؟ میں نے لا علمی کا اظہار کیا تو کہا: ''آج رات جب میں سوئی تو میری سوئی ہوئی قسمت جاگ اٹھی میں نے خواب میں حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت کی، لب ہائے مبارکہ کو جُنبش ہوئی،رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ احمد بن خَصِیب اور اس کے گھر میں موجود نیک خاتون کو بہترین جزاء عطا فرمائے ،آج رات تم لوگوں نے میری اولاد میں سے تین ایسے شخصوں کی تنگدستی دور کی جن کے پاس کچھ بھی نہ تھا، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔''
خواب سنا نے کے بعد کہا:'' اے احمد بن خَصِیب!یہ زیورات ،کپڑے اور دیناروں کی تھیلیاں اس سید زادے کو دے دینا جس کی برکت سے مجھے نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کادیدار نصیب ہوا۔اس سے کہہ دینا کہ جب کبھی ہمارے پاس مال آئے گا ہم تمہارے لئے بھجوادیا کریں گے۔ پھر خلیفہ کی والدہ شجاع نے کچھ اور سامان دیتے ہوئے کہا:'' یہ زیورات، کپڑے اور دینار اپنی زوجہ کودینا اور کہنا: ''اے نیک ومُبَارَک خاتون! اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اچھی جزاء عطافرمائے۔ تمہارے ہی مشورے پر اس سید زادے کو رقم دی گئی اور اس طرح مجھے دیدارِ نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نصیب ہوا، یہ نذرانہ قبول کر لیجئے۔ اور اے احمد! یہ کپڑے اور رقم تم اپنے پاس رکھو یہ تمہارے لئے ہیں ۔''میں تمام سامان لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا راستے میں ہی اس سید زادے کا گھر تھا میں نے دل میں کہا:'' جس کی برکت سے مجھے اتنا انعام ملا اسی سے خیر کی ابتداء کرنی چاہے ۔''
چنانچہ، میں اس کے گھر گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا ،اندر سے پوچھاگیا: ''کون؟ '' میں نے اپنا نام بتایا تو وہی سیدزادہ باہر آیا اور کہا: ''اے احمد! ہمارے لئے جو مال لے کر آئے ہو وہ ہمیں دے دو۔'' میں نے حیران ہو کر پوچھا:'' تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ میں تمہارے لئے ہدیہ لایا ہوں ؟''کہا : ''بات دراصل یہ ہے کہ جب میں تمہارے پاس سے رقم لایا اس وقت ہمارے پاس کچھ نہ