کرنے کودیئے تھے ،ایک سیدزادے نے تجھ سے عیال داری اورتنگدستی کی شکایت کی توتُونے صرف اسے ایک دیناردیا،افسوس ہے تجھ پر!آلِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ورضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ اس طرح کابرتاؤ ہرگزمناسب نہیں ۔''اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی محبت سے سرشارنیک سیرت بیوی کی گفتگونے میرے دل پر بہت گہرا اثرکیا۔میں نے بے قرار ہو کر پوچھا: ''اب کیاہوسکتاہے اس غلطی کا اِزالہ کس طرح کیا جائے۔''اس نے کہا:''یہ سارے دیناراس سیدزادے کی خدمت میں پیش کر دے۔'' میں نے غلام سے کہا:''جاؤاورفوراًاس سیدزادے کوبلا لاؤ،وہ گیااوراسے لے آیا۔میں نے اس سے معذرت کی اور سات سودیناروں سے بھراتھیلا اس کے حضورپیش کردیا۔وہ دعائیں دیتااورشکریہ ادا کرتا ہوا رخصت ہوگیا۔''پھرمجھے شیطانی وسوسہ آیاکہ خلیفہ مُتَوِکِّل ساداتِ کرام سے زیادہ خوش نہیں، اس کی والدہ'' شجاع'' نے غریبوں ، مسکینوں میں تقسیم کرنے کے لئے جورقم دی تھی اس کابڑاحصہ توایک سیدزادے کی خدمت میں پیش کردیاگیا کہیں ایسانہ ہوکہ خلیفہ مجھ پرغضب ناک ہو اورمجھے سزا کاسامنا کرناپڑے۔میں نے اس پریشانی کااظہاراپنی بیوی پرکیاتواس مُتَوَکِّلَہ وصابرہ خاتون نے کہا:''آپ ان ساداتِ کرام کے نانا جان پربھروسہ رکھیں اورسارامعاملہ ان پرچھوڑ دیں ۔''
میں نے کہا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بندی! تواچھی طرح جانتی ہے کہ خلیفہ متوکل ساداتِ کرام سے کیسابرتاؤ کرتاہے۔جب وہ مجھ سے اس رقم کے متعلق پوچھے گاتومیں کیاجواب دوں گا؟''اس نے کہا:''میرے سرتاج! آپ سارامعاملہ حضورنبئ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سپرد کردیں ۔جس سیدزادے کی آپ نے مددکی اس کے ناناجان ہی آپ کابدلہ چکائیں گے ،آپ ان پربھروسہ رکھیں ۔''وہ اس طرح میری ڈھارس بندھاتی رہی پھرمیں اپنے بستر پرجا لیٹا۔ابھی میں سونے کی کوشش کررہاتھاکہ دروازے پر دستک ہوئی،میں نے خادم سے کہا:''جاؤ! دیکھو! اس وقت کون آیاہے؟''وہ گیا اور واپس آکرکہا:''خلیفہ کی والدہ شجاع نے پیغام بھجوایاہے کہ فوراًمیرے پاس پہنچو۔''میں صحن میں آیاتودیکھاکہ آسمان پرستارے جگمگا رہے تھے۔ رات کافی بِیت (یعنی گزر)چکی تھی ابھی میں صحن میں ہی تھاکہ دوسراقاصد آیاپھرتیسرا۔میں نے تینوں کواپنے پاس بلایا اور کہا: ''کیااتنی رات گئے جاناضروری ہے ؟ '' انہوں نے کہا:''ہاں!آپ فوراً!خلیفہ کی والدہ کے پاس چلیں ۔''
چنانچہ، میں سواری پرسوار ہو کر محل کی طرف چل دیاابھی تھوڑی ہی دورچلاتھاکہ بہت سارے قاصد ملے جومجھے بلانے آ رہے تھے۔میں محل میں پہنچا توخادم مجھے ایک سمت لے کر گیا۔ایک جگہ جاکروہ ٹھہر گیا،پھرخادمِ خاص آیااورمیرا ہاتھ پکڑ کر بولا: ''اے احمد!خلیفہ کی والدہ آپ سے گفتگو کرناچاہتی ہے جہاں آپ کوٹھہرایاجائے وہیں ٹھہرنااورجب تک سوال نہ کیا جائے اس وقت تک کچھ نہ بولنا۔''پھروہ مجھے ایک خوبصورت کمرے میں لے گیاجس میں بہترین پردے لٹک رہے تھے اورکمرے کے وسط میں شمع دان رکھاہواتھا،مجھے ایک دروازے کے پاس کھڑا کر دیاگیا۔میں چپ چاپ وہاں کھڑا رہا،پھرکسی نے بلند آواز سے